ڈرون پر بیان: پاکستانی موقف کی تائید

پاکستان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کو غیر قانونی قرار دینا پاکستانی موقف کی تائید کرتا ہے۔

فائل فوٹو، عبدالباسط

جمعرات کو دفترِ خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ڈرون حملوں کا معاملہ امریکہ اور اقوام متحدہ سمیت مختلف ممالک کے ساتھ اُٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کہ حملے پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔

عبدالباسط نے کہا کہ ممکن ہے کہ ان حملوں سے وقتی طور پر کچھ کامیابی حاصل ضرور ہوتی ہے لیکن اس کے دور رس نتائج برآمد نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حملوں سے دل ودماغ کی جنگ کو نہیں جیتا جاسکتا۔

ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کا کہنا ہے کہ دفتر خارجہ کے ترجمان کے بقول اس ضمن میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور اس کا کوئی ایسا حل نکل آئے گا جو دونوں ملکوں کے لیے قابل قبول ہوگا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کو ڈرون حملوں کے پالیسی کا ازسرنو جائزہ لے۔

ایک سوال کے جواب میں عبدالباسط کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے کوئی بیرونی دباو نہیں ہے اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے مناسب وقت پر کارروائی کرنے کے مجاز ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت امریکہ تعلقات یا بھارت افغانستان تعلقات پاکستان کی سلامتی کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔

عبدالباسط کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ جب پندرہ جولائی کو پاکستان میں ملاقات کریں گے تو دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کے فقدان سے متعلق جو باتیں سامنے آ رہی ہیں اُن پر بھی غور کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں کہ بھارت میں قید پاکستانیوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس پر دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارت قیدیوں کے معاملے کو باہمی طور پر حل کر رہے ہیں تاہم پاکستان اس معاملے کو ابھی بین الاقوامی سطح پر نہیں لے کر جانا چاہتا۔

اسی بارے میں