سی این جی کا کاروبار

پاکستان ماحول دوست ایندھن سی این جی ( کمپریسڈ نیچرل گیس ) استعمال کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ ساتھ ہی ملک کے تمام بڑے شہروں کی فضائی کثافت میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ لاہور، ملک میں سب سے زیادہ فضائی کثافت کا شکار شہر ہے۔

حکومت نے فضائی کثافت میں اضافے کا ذمے دار ایندھن کی بڑھتی ہوئی طلب اور شہروں میں ٹرانسپورٹ شعبے کے بے تحاشہ پھیلاؤ کو قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ فضائی کثافت شہریوں کی صحت کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

یہ بات حکومت پاکستان کی ایک اہم دستاویز اکنامک سروے میں کہی گئی ہے، جسے جمعہ کو جاری کیا گیا۔

حکومتِ پاکستان کے جاری کردہ ملکی اقتصادی جائزے 10-2009 کے مطابق پاکستان میں سی این جی گاڑیوں کا استعمال 1999 سے شروع ہوا۔ جس کے اختتام پر ملک بھر میں سی این جی سٹیشنوں کی تعداد باسٹھ اور سی این جی ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں کی تعداد ساٹھ ہزارتھی۔

دسمبر 2009 کے اختتام پر ملک بھر میں سی این جی استعمال کرنے والی گاڑیوں کی تعداد بڑھ کر چوبیس لاکھ سے زائد اور گیس سٹیشنوں کی تعداد تین ہزار، ایک سو پانچ ہوچکی ہے۔

اس وقت ملک بھر میں گاڑیوں کی مجموعی تعداد چھپن لاکھ، سڑسٹھ ہزار ہے۔ جن میں رکشہ اور موٹر سائیکل شامل نہیں ہیں۔ جائزے میں کہا گیا ہے کہ ’انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف نیچرل گیس وہیکلز کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں سی این جی استعمال کرنے والی سب سے زیادہ گاڑیاں پاکستان میں ہیں۔یوں پاکستان سی این جی استعمال کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔‘

ماحولیاتی ماہرین روایتی رکازی ایندھن کو ماحول اور انسانی صحت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے سی این جی کے استعمال کو ماحول دوست قرار دیتے ہیں لیکن اتنے بڑے پیمانے پر سی این گاڑیوں کے استعمال کے باوجود فضائی کثافت میں کمی کے بجائے اضافے کا سبب حکومت نے توانائی کی کمی اور ٹرانسپورٹ شعبے کے پھیلاؤ کو قرار دیا ہے۔

Image caption تجارتی پیمانے پر استعمال ہونے والی بڑی گاڑیاں بھی فضائی کثافت کی ذمہ دار ہیں۔

پاکستان میں تجارتی بنیادوں پر چلنے والی گاڑیاں اور رکشے بالعموم ڈیزل پر چلائے جاتے ہیں جب کہ موٹر سائیکلوں اور جنریٹروں کے لیے عمومی طور پر پیٹرول استعمال کیا جاتا ہے۔ جائزے میں بتایا گیا ہے کہ ‘رکازی ایندھن کے استعمال سے خارج ہونے والے دھواں بڑے پیمانے پر فضائی کثافت پھیلانے کا سبب ہے۔ مہلک دھویں سے خارج ہونے والے کیمیائی ذرات ہوا میں شامل ہو کر، سانس کے راستے انسانی جسم میں داخل ہو کر مہلک بیماریوں کا سبب بن رہے ہیں۔’

رواں ماہ اختتام پذیر ہونے والے مالیاتی سال کے اقتصادی جائزے میں مزید کہا گیا ہے کہ اس وقت فضائی کثافت کے لحاظ سے لاہور سرِ فہرست جب کہ اسلام آباد دوسرے نمبر پر ہے۔ تیسرے نمبر پر پشاور ہے۔

حیرت انگیز طور پر ملک کے سب سے بڑی آبادی والے تجارتی شہر کراچی کا فضائی کثافت میں چوتھا نمبر ہے۔ کوئٹہ ملک کا سب سے کم آلودہ فضا کا شہر ہے، تاہم ادارہ تحفظِ ماحول، پاکستان کے طے کرہ معیار کے مطابق ملک کے کسی بھی بڑے شہر کی ہوا انسانی صحت کے لیے خطرات سے پاک نہیں ہے۔

جائزے کے مطابق ملک بھر میں تجارتی بنیادوں پر استعمال ہونے والی گاڑیوں سے دھویں کے اخراج کو روکنے کے لیے فٹنس کے قوانین موجود ہیں تاہم نجی گاڑیاں فٹنس کی شرط سے آزاد ہیں۔ جائزے کے مطابق یہ بھی فضائی کثافت میں اضافے کی ایک وجہ ہے۔

بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این سے وابستہ فضائی آلودگی کے ماہر محمد عاقب نے کراچی میں فضائی کثافت کم ہونے کے حوالے سے بی بی سی کو بتایا ’اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ کراچی میں سمندری ہواؤں کے سبب کثافت میں زیادہ شدت نہیں رہتی، لیکن اس بات کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ کراچی میں فضائی کثافت کم ہونے کے اعداد و شمار صورتِ حال میں کسی بہتری کے امکان کو ظاہر کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں فضائی کثافت طے شدہ تمام عالمی معیار سے کئی گناہ زیادہ اور انسانی صحت کے لیے نہایت خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے ‘۔

اقتصادی جائزے میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر قابو پانے اور انسانی صحت کے تحفظ کے لیے اقدامات کا بھی ذکرکیا گیا ہے۔ جائزے کے مطابق ‘تجارتی پیمانے پر چلنے والی بڑی مال بردار گاڑیوں اور مسافر بسوں کو سی این استعمال کرنے کی ترغیب دے جائے گی۔ اس ضمن میں ملک کے تمام بڑے شہروں میں سی این جی بسیں چلانے کے لیے ٹرانسپورٹروں کو سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی۔

ایک طرف سرکاری دستاویز میں رکازی ایندھن کوفضائی کثافت میں اضافے کا سبب قرار دیا جاتا ہے لیکن دوسری جانب کئی ماہ سے ملک گیر سطح پر سی این جی اسٹیشنوں کو لوڈ شیڈنگ کے نام پر گیس کی فراہمی روکی جا رہی ہے۔سی این جی سٹیشنوں کی ہفتہ وار بندش کے سبب ملک بھر کی لاکھوں گاڑیاں سڑکوں پر دوڑنے کے لیے صرف پیٹرول اور ڈیزل پر انحصار کرتی ہیں۔ جو کہ یقینی طور پر آلودگی میں مزید اضافے کا سبب ہے۔