ساڑھے تین لاکھ افراد کا انخلاء

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر بحیرۂ عرب سے اٹھنے والا طوفان ’پِٹ‘ شدت اختیار کرتا ہے تو کراچی، ٹھٹہ اور بدین سے ساڑھے تین لاکھ لوگوں کے انخلاء کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جن میں سے بیس ہزار کے قریب پہلے ہی منتقل ہوچکے ہیں۔

صوبائی ڈازسٹر اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عاصم صدیقی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تینوں فوجوں اور انتظامی اداروں کی مدد سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بنا لیا گیا ہے۔

طوفان کا خطرہ، کیمیوں میں منتقلی

انہوں نے بتایا کہ ٹھٹہ اور بدین کے ایک لاکھ لوگ اس طوفان سے متاثر ہوسکتے ہیں، جس میں اسی فیصد ٹھٹہ اور بیس فیصد بدین کی آبادی ہے۔ اس سلسلے میں سات ہزار چار سو افراد کا ٹھٹہ سے انخلا ہوا ہے جبکہ دس ہزار بدین سے منتقل کیے گئے ہیں جن میں سے صرف پچیس فیصد لوگ کیمپوں میں ہیں باقی اپنے رشتے داروں کے پاس چلے گئے ہیں۔

کراچی کے ای ڈی او ریوینیو روشن شیخ کا کہنا ہے کہ کراچی کے پانچ ساحلی ٹاؤن بن قاسم، کیماڑی، اورنگی، صدر اور شاہ فیصل ٹاؤن حساس ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک سو اٹھہتر یونین کونسلوں میں ایمرجنسی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ ریڑھی گوٹھ سے ڈہائی سو لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

ای ڈی او نے بتایا کہ پچہتر سے ایک لاکھ لوگوں کا انخلا تو کرنا ہوگا جس میں گڈاپ کے دیہی علاقے اور لیاری ندی کے لوگ شامل ہیں، مگر شہری حکومت نے منصوبہ تین لاکھ کا بنایا ہے اور انخلا کے فیصلے پر سنیچر کی صبح سے عمل درآمد ہونا شروع ہوجائے گا۔

دوسری طرف کراچی میں حکام نے بڑے سائن بورڈ ہٹانے کی بھی ہدایت کی ہے، یاد رہے کہ دو ہزار سات میں طوفانی ہوائیں چلنے سے سائن بورڈ راہ گیروں پر گر گئے تھے جس سے کئی لوگ ہلاک ہوئے۔ اسی طرح سمندر پر تفریح کے لیے جانے والے لوگوں کو روکنے کے لیے پولیس کے ساتھ رینجرز کا بھی استعمال کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

پاکستان کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بحیرۂ عرب میں اٹھنے والے سائیکلون ’پِٹ‘ اومان سے ٹکرانے کے بعد سنیچر کی شام پاکستان کی ساحلی علاقوں کا رخ کرے گا مگر اس کے اثرات بارش کی صورت میں جمعہ کی شام سے ہی ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے۔

حکام کے مطابق طوفان کی وجہ سے سو سے ایک سو بیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں گی اور سمندر میں چار سے چھ فٹ اونچی لہریں بلند ہوں گی۔

اسی بارے میں