کیا سادگی ، واہ سادگی!

مجھے نہ تو معیشت کے گورکھ دھندے کی کچھ سمجھ ہے اور نہ ہی اعداد و شمار کے گھنے جنگل میں گھسنے کی جرات ہے۔ پاکستان کے قومی بجٹ سے اگر دلچسپی ہے تو بس اتنی کہ عام آدمی کے معیارِ زندگی پر نئے بجٹ کے کیا اثرات ہوں گے۔

پاکستان کے ایک قابل ماہرِ اقتصادیات ڈاکٹر محبوب الحق نے سن نوے میں نوبیل انعام یافتہ بھارتی ماہرِ اقتصادیات امرتا سین سے مل کر انسانی معیارِ زندگی کا ایک نیا اشاریہ ہیومین ڈویلپمنٹ انڈیکس کے نام سے وضع کیا تھا۔جس کے ذریعے یہ دکھانا مقصود تھا کہ ترقی صرف کل قومی پیداوار اور آمدنی میں اضافہ دکھانے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ ترقی یہ ہے کہ اس اضافے سے عام آدمی کے معیارِ زندگی اور اسکے اردگرد کے ماحول میں کتنی ترقی ہورہی ہے۔

سن دو ہزار سات میں انسانی معیارِ زندگی کی جو ڈاکٹر محبوب الحق انڈیکس شائع ہوئی تو اس میں شامل ایک سو اسی ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر ایک سو اکتالیسواں ہے۔ یعنی سری لنکا ، بھارت، نیپال، بھوٹان اور بنگلہ دیش سمیت ایک سو چالیس ممالک معیارِ زندگی کی دوڑ میں پاکستان سے آگے ہیں۔ جبکہ علاقائی ممالک میں صرف افغانستان ہی ایسا ہے جو معیارِ زندگی کی دوڑ میں پاکستان سے پیچھے ہے۔

ان حالات میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جو بھی قومی بجٹ بنے اس کا بنیادی محور ہی یہ ہو کہ کس طرح پاکستان کو جہالت، بیماری، بے روزگاری ، توانائی کی قلت اور ناکافی خوراک کے منحوس چکر سے نکالا جائے۔ لیکن تازہ ترین بجٹ بھی اس تعلق سے زیادہ حوصلہ افزا محسوس نہیں ہوتا۔

مثلاً جو ملک تعلیمی پسماندگی کے اعتبار سے دنیا کے ایک سو اسی ممالک میں ایک سو چونتیسویں نمبر پر ہے۔اس سال اسکے اعلیٰ تعلیمی بجٹ میں سات ارب روپے کی کٹوتی کردی گئی ۔جو ملک اوسط عمر کے اعتبار سے ایک سو اسی ممالک کی فہرست میں ایک سو سترہ نمبر پر ہے۔اس ملک میں صحت کے اخراجات میں ستائیس فیصد کمی کردی گئی۔جو ملک ماحولیاتی تبدیلیوں اور آلودگی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے پچیس ممالک میں شامل ہے۔ اسکے ماحولیاتی بجٹ میں پچپن فیصد کٹوتی کردی گئی ہے۔جس ملک کے بارے میں دہشت گردوں کی جنت جیسے تاثر میں مسلسل بین الاقوامی سطح پراضافہ ہورہا ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہاں ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے پہلے سے زیادہ وسائل مختص کئے جاتے۔لیکن نئے بجٹ میں ثقافتی سرگرمیوں کے اخراجات میں بھی اکیس فیصد کٹوتی کردی گئی۔جس ملک کے پاس سیاحت کے لئے وافر تاریخ اور جغرافیہ ہے۔وہاں سیاحوں کو راغب کرنے کے لئے ایک بڑی رقم سیاح دوست انفراسٹرکچر بنانے کے لئے مختص کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سیاحوں کے ساتھ زرِ مبادلہ بھی آئے۔لیکن اس محکمے کے ساتھ دو ہاتھ ہوگئے یعنی سیاحت کے محکمے میں خوف ِ خدا پیدا کرنے کے لیے نہ صرف ایک عالمِ دین کو اس کا وزیر بنایا گیا بلکہ نئے بجٹ میں فروغِ سیاحت کے بجٹ میں بھی پینتیس فیصد کٹوتی کردی گئی۔

جو ملک فی کس آمدنی کے اعتبار سے ایک سو اسی ممالک میں ایک سو بتیسویں نمبر پر ہے۔ وہاں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پینتیس سے پچاس فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔جس سے صرف پچیس لاکھ تنخواہ داروں کو فائدہ ہوگا۔جبکہ مسلح افواج کی تنخواہوں میں بجٹ سے کچھ ماہ پہلے ہی ساٹھ سے سو فیصد اضافہ کیا جاچکا ہے۔اس کا فائدہ بھی صرف بارہ سے پندرہ لاکھ افراد کوہوگا۔لیکن ایک کروڑ سے زائد نجی شعبے کے زرعی اور دیہاڑی مزدوروں کے حالات بہتر بنانے کے لئے بظاہر کچھ نہیں ہے جن میں سے اسی فیصد کی آمدنی کم ازکم ماہانہ آمدنی کی سرکاری حد یعنی سات ہزار روپے سے بھی کم ہے۔ جس ملک کی اڑتالیس فیصد آبادی خوراک کے بحران کا شکار ہے۔اس سال اسکے ترقیاتی بجٹ میں صرف ڈھائی فیصد اضافہ ہوا ہے ۔افراطِ زر کی شرح دیکھتے ہوئے یہ اضافہ بھی عملاً مائنس میں ہے۔

بجٹ میں ایک اچھی بات یہ ہوئی ہے کہ نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے تحت وفاق نے صوبوں کو وسائل کی منتقلی میں تقریباً اٹھاون فیصد کا اضافہ کیا ہے اور اسکی ایک وجہ کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے کے بعد بہت سے محکموں کی ذمہ داریاں مکمل طور پر صوبوں کے حوالے کیا جانا ہے۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ صوبوں کے پاس ابھی اتنی گنجائش بھی نہیں ہے کہ وہ سالانہ ترقیاتی بجٹ پورے کا پورا استعمال کرسکیں۔جبکہ چار میں سے تین صوبوں کی حکومتیں کہہ چکی ہیں کہ کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے کے بعد منتقل ہونے والے محکموں کو پوری طرح چلانے کے لئے انہیں کم ازکم تین برس کا عرصہ درکار ہے۔چنانچہ جتنی ضرورت صوبوں کو وسائل کی زیادہ سے زیادہ منتقلی کی ہے اس سے کہیں زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ صوبوں کو ایسے قابلِ عمل منصوبے بنانے کی صلاحیت بڑھانے پر بھی آمادہ کیا جائے جس کے نتیجے میں وہ ترقیاتی بجٹ کا سو فیصد موثر استعمال کرکے اس بجٹ کو ضائع ہونے سے بچائیں۔اور کرپشن کی عالمی انڈیکس میں پاکستان کو اوپر کے بجائے نیچے لانے کی کوشش میں ہاتھ بٹائیں۔

جس وزیرِ خزانہ نے یہ بجٹ پیش کیا ۔اسی وزیرِ خزانہ نے بجٹ سے ایک روز پہلے قومی اقتصادی سروے بھی ریلیز کیا ۔اس سروے میں کہا گیا کہ آمدنی و اخراجات میں توازن کے لئے سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری اور حکومت کے سائز میں کمی کی ضرورت ہے۔مگر اگلے ہی دن یہ تماشا بھی ہوگیا کہ اپنے ہی جاری کردہ اقتصادی سروے کی سفارشات کے برعکس ایسے بیمار سرکاری ادارے جن کے صحت مند ہونے کی کسی کو امید نہیں ہے انکا خسارہ پورا کرنے کے لئے دو سو پینتالیس ارب روپے کا انتظام کیا جارہا ہے۔جبکہ ایوانِ صدر اور ایوانِ وزیرِ اعظم کے اخراجات میں چودہ فیصد، فوجی بجٹ میں سترہ فیصد اور قرضوں کے سود کی ادائیگی کے بجٹ میں سات فیصد اضافہ ہوا ہے۔اگر یہ وہی سادگی ہے جس کا حصول حکومت کا ہدف ہے تو پھر

اس سادگی پے کون نہ مرجائے اے خدا!

اسی بارے میں