ایرانی نیوی نے پانچ ماہ گیر بچا لیے

ابراہیم حیدری میں پاکستانی مچھیروں کی کشتیاں
Image caption طوفانی ہواؤں کی وجہ سے پاکستانی ماہی گیر بھٹک گئے تھے

سمندری طوفان میں پھنس جانے والی کشتی میں سوار پانچ ماہی گیروں کو ایرانی نیوی نے بچالیا ہے۔ ان بلوچ ماہی گیروں کو پاکستانی حکام ریسکیو کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے اور ان کی کشتی سمندر کی لہروں کے سہارے ایران کی حدود میں داخل ہوگئی تھی۔

گزشتہ روز ایران کے شہر چاربار سے ٹیلیفون پر اطلاع ملی کہ ماہی گیر خیریت سے ہیں اور ایرانی نیوی کے پاس موجود ہیں۔

سنیچر کو اس کشتی میں سوار ماہی گیر مسلم بلوچ نے بی بی سی کو موبائل پر بتایا تھا کہ ان کی کشتی کا انجن خراب ہوچکا ہے اور پانی انہیں مسقط کی جانب دھکیل رہا ہے۔

مسلم بلوچ کے ساتھ پانچ اور بھی ماہی گیر موجود تھے جن کا تعلق پسنی سے تھا۔ مسلم نے بتایا کہ وہ ایک ماہ قبل مچھلی پکڑنے کے لیے گہرے سمندر میں گئے تھے۔ دو روز قبل انہیں وائرلیس پر طوفان کی آمد کے بارے میں بتایا گیا۔گزشتہ شب جب وہ جیونی کے قریب پہنچے تو ان کی لانچ کا انجن بند ہوگیا جس کے بعد انہوں نے لنگر لگایا مگر طوفانی ہواؤں کی وجہ سے وہ بھی ٹوٹ گیا۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ان ماہی گیروں کے پاس پینے کا پانی اور خوراک بھی ختم ہوچکی تھی اور رابطے کا واحد وسیلہ موبائیل ٹیلیفون تھا، جس کی مدد سے انہوں نے اپنے رشتے داروں اور حکام سے رابطے قائم رکھا ہوا تھا۔ان کے موبائل کا بیلنس ختم ہونے کے بعد مسلم بلوچ کی درخواست پر ایک صحافی نے اسے چارج کرایا مگر بعد میں بیٹری بھی ختم ہوگئی اور ان کا رابطہ کٹ گیا۔

یہ ماہی گیرمقامی ٹی وی چینلز سے لے کر بی بی سی لندن تک رابطے اور بچانے کی اپیل کرتے رہے۔ نشریاتی اداروں کے رابطے پر میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے یقین دہانی کرائی کہ ماہی گیروں کو واپس لانے کی کوشش کی جا رہی ہے چونکہ سخت بارش اور طو فان ہے اس لیے مشکلات کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں