سوئس حکام کو خط لکھنا بےسود:حکومت

وفاقی حکومت نے قومی مصالحتی آرڈیننس پر عملدرآمد سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف اپنے جواب میں کہا ہے کہ ان مقدمات کے حوالے سے سوئس حکام کو خط لکھنا بےسود ہوگا۔

جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے سوئس عدالتوں میں مقدمات دوبارہ شروع کرنے کے لیے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے سے متعلق حکومت سے جواب طلب کیا تھا اور اس پر پیر کو حکومتی وکیل بیرسٹر کمال اظفر نے سپریم کورٹ میں جواب داخل کروایا۔

گُزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے وفاقی وزیر قانون بابر اعوان بھی کو طلب کیا تھا اور حکم دیا تھا کہ وہ دس تاریخ تک تحریری جواب عدالت میں جمع کروائیں۔

تین سو صفحات پر مشتمل وفاقی حکومت کے اس جواب میں کہا گیا ہے کہ سوئس عدالتوں میں صدر آصف علی زردرای کے خلاف کوئی مقدمہ زیرِ سماعت نہیں ہے۔ جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اُس وقت کے اٹارنی جنرل ملک قیوم نے آصف علی زردرای کے خلاف مقدمات ختم کرنے کے لیے سوئس حکام کو جو خط لکھا تھا وہ قانون کے مطابق تھا۔

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے این آر او کو جو کالعدم قراردیا تھا اُس میں برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز کے فیصلے کو بنیاد بنایا گیا تھا جو اب متروک ہو چکا ہے۔ جواب کے مطابق این آر او ایک جائز قانون تھا جس کے تحت صدر آصف علی زردراری اور دیگر افراد کے خلاف دائر مقدمات ختم کیے گئے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا ہے کہ سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حکومتی وکیل کمال اظفر نے کہا کہ این آر او سے مستفید ہونے والے افراد سے مراعات بھی واپس نہیں لی جا سکتیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوانین پر صرف پاکستان کی حدود میں ہی عملدرآمد ہو سکتا ہے جبکہ بیرون ملک عدالتوں کو سپریم کورٹ احکامات جاری نہیں کر سکتی۔ حکومتی وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو این آر او سے متعلق فیصلہ نہیں دینا چاہیے تھا اور عدالتِ عظمیٰ کو اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کسی شخص کو ایک مقدمے میں دو بار سزا نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ جواب میں کہا گیا ہے کہ این آر او ملک میں آمریت سے جمہوریت کی طرف ایک اہم قدم تھا جس کی وجہ سے جلاوطنی کی زندگی گُزارنے والی قیادت کو ملک میں آنے کا موقع ملا اور انہوں نے انتخابات میں حصہ لیا۔ کمال اظفر کا کہنا تھا کہ این آر او اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے اور اب ہمیں آگے کی طرف دیکھنا چاہیے۔

اٹھاریویں ترمیز:

دریں اثنا چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سترہ رکنی لارجر بینچ نے اٹھارویں ترمیم کی کچھ شقوں کے خلاف دائر درخواستوں کی بھی سماعت کی۔

سپریم کورٹ بار کے وکیل حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’وکلاء عدلیہ کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اُنہیں اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی کا اختیار نہیں ہے‘ اور ’پارلیمنٹ کو ریاست کا عنصر تسلیم کرتے ہیں لیکن اُسے آئینی حدود میں رہ کرکام کرنا چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں چونکہ صدارتی نظام رائج ہے اور وہاں کا صدر اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی سینیٹ کے ارکان کی سفارشات کی روشنی میں کرتے ہیں۔ حامد خان کا کہنا تھا کہ سینیٹ کے ارکان نے ایسے کسی شخص کی بطور جج سفارش نہیں کی جس کے بارے میں لوگ اُنگلیاں اُٹھاتے ہوں۔

اس پر بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی وزراء اور بیورکریٹس نیک اور فرشتے ہیں جبکہ ساری خرابیاں ججوں میں ہی رہ گئی ہیں جن کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت منگل تک کے لیے ملتوی کردی۔

اسی بارے میں