’بجٹ کو عوامی یا جہموری نہیں کہہ سکتے‘

یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کے لیے پیش کردہ بجٹ پر منگل کی شام کو قومی اسمبلی میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ وہ اس بجٹ کو جمہوری یا عوامی نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ ایک مانگے تانگے کا بجٹ ہے۔

فائل فوٹو، چوہدری نثار
Image caption چوہدری نثار علی خان نے اپنی طویل تقریر میں نئے وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی بڑی تعریف اور حکومت پر کڑی نکتہ چینی کی

انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد جو محکمے صوبوں کو منتقل ہونے ہیں ان کے لیے مرکزی بجٹ میں زیادہ رقم نہیں رکھنی چاہیے۔

انہوں نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پچاس فیصد اضافے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس بارے میں صوبوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبوں کے ساتھ طے کیا تھا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں پچیس فیصد بڑھائیں گے لیکن انہوں نے پچاس فیصد اضافے کا اعلان کرکے صوبوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔

ان کے بقول صوبہ سرحد اور پنجاب کے اتنے وسائل نہیں کہ وہ اتنا بڑا اضافہ کرسکیں کیونکہ پنجاب کی حکومت پہلے ہی مالی دباؤ کا شکار ہے اور پچاس فیصد تنخوا بڑھانے کے لیے پینتالیس ارب روپے درکار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہیں بڑھنے سے صوبوں پر پڑنے والا اضافی بوجھ مرکزی حکومت ادا کرے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ حسب معمول چوہدری نثار علی خان نے اپنی طویل تقریر میں نئے وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی بڑی تعریف اور حکومت پر کڑی نکتہ چینی کی۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ملک میں مہنگائی، بدعنوانی اور بے روزگاری بڑھ گئی ہے اور عام آدمی کی زندگی مشکل ہوگئی ہے اور حکومت نے بجٹ میں عام آدمی کو کوئی رلیف نہیں دیا۔

انہوں نے تیل کی قیمتیں کم کرنے، کارپوریشنز اور مالی بد نظمی کا شکار اداروں کو پاؤں پر کھڑے کرنے کی تجاویز بھی پیش کیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت زراعت پر ٹیکس لگائے ان کی جماعت تعاون کے لیے تیار ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے عوامی مسائل حل نہ ہونے، مہنگائی، بے روزگاری اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف علامتی واک آؤٹ کیا۔ ادھر حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومینٹ نے کراچی میں بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔

منگل کو قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ ایوان بالا سینیٹ کا اجلاس بھی جاری رہا اور سینیٹ سے بھی متحدہ قومی موومینٹ نے کراچی میں بجلی کے نرخوں میں اضافے کے خلاف واک آؤٹ کیا۔

بعد میں بابر غوری نے کہا کہ وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے انہیں نرخوں میں اضافہ واپس لینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ سینیٹ سے فاٹا کے سینیٹرز نے بھی اپنے علاقوں کے لیے بجٹ مختص نہ کرنے پر واک آؤٹ کیا۔

اسی بارے میں