’آٹھویں ترمیم ایک مجرمانہ غفلت‘

افتخار محمد چودھری
Image caption چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ائین میں ترامیم کرنا پارلیمنٹ کا حق ہے لیکن اس بات کا خیال رہے کہ ترمیم سے آئین کے بنیادی ڈھانچے میں توتبدیل نہیں ہورہی

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ سنہ اُنیس سو پچاسی میں غیر جماعتی بنیادوں پر منتخب ہونے والی اسمبلی آٹھویں ترمیم پاس کرکے مُجرمانہ غفلت کی مرتکب ہوئی تھی کیونکہ اس ترمیم میں اقلیتوں کو مذہبی رسومات آزادانہ طور پر ادا کرنے کے الفاظ میں ردوبدل کیا گیا تھا۔

منگل کو اٹھارویں ترمیم کی کچھ شقوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ نے کی۔

ان درخواستوں کی سماعت کےدوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آٹھویں ترمیم میں اقلیتوں کو مذہبی رسومات ادا کرنے کے حوالے سے آزادانہ (فری) کا لفظ ہذف کردیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اُس وقت کی اسمبلی میں آئین کی بحالی کا آرڈر پیش کیا گیا تھا۔ اُس میں بھی اس لفظ کو شامل نہیں کیا گیا جس پر کسی نے توجہ نہیں دی جو اُس وقت کے ارکان پارلیمنٹ کے غیر سنجیدہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ پچیس سال تک کسی نے بھی اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا تاہم یہ کریڈٹ موجودہ حکومت کو جاتا ہے جنھوں نے اس کی نشاندہی کرکے اس کو آئین میں شامل کیا۔

بینچ میں شامل جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ آئین ایک مقدس دستاویز نہیں جس کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔

یاد رہے کہ سابق ملٹری ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق نے سنہ اُنیس سو پچاسی میں قرارداد مقاصد کو آئین کا حصہ قرار دیا تھا۔ یہ قرار داد نہ اُنیس سو اُنچاس میں متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی جس میں اقلیتوں کو اپنی مذہبی رسومات آزادانہ طور پر ادا کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ بار کے وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ اُس وقت کے ملٹری ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق نے آزادانہ لفظ کو جان بوجھ کر آئین سے نکال کر آئین کے قتل کے مرتکب ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ عدالت کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ آئین میں ابھی تک کچھ ایسی شقیں موجود ہیں جن کو ختم کرنے یا اُن میں ترامیم کرنے کی ضرورت ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئین میں ترامیم کرنا پارلیمنٹ کا حق ہے لیکن ارکان پارلیمنٹ کو بھی چاہیے کہ وہ اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ان ترامیم سے آئین کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی تو نہیں ہو رہی۔

حامد خان نے اٹھارویں ترمیم میں اعلی عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی سے متعلق جوڈیشل کمیشن کے قیام کے خلاف دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکومت نے اعلی عدالتوں میں ججوں کی تقرری کا تصورجنوبی افریقہ سے لیان ہے لیکن وہاں پر تو صدارتی نظام رائج ہے جبکہ پارلیمانی نظام حکومت میں وزیر اعظم چیف جسٹس کی سفارشات کو آگے بھجواتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ دنیا کے کسی ملک میں اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی کے لیے کوئی جوڈیشل کمیشن موجود نہیں ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جہاں کہیں جوڈیشل کمیشن قائم ہیں وہاں پر کوئی رکن پارلیمنٹ اس کمیشن کا رکن نہیں ہوتا۔

چیف جسٹس نے سپریم کورٹ بار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا پاکستان میں کسی عدالت نے پارلیمنٹ کی طرف سے کی گئی کسی ترمیم کو کالعدم قرار دیا ہے جس پر حامد خان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عدالتوں نے کسی ترمیم کو کالعدم تو قرار نہیں دیا البتہ اُس کا جائزہ ضرور لیا ہے تاہم بھارتی عدالت نے ترامیم کو مسترد ضرور کیا ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں ایسا ہوا ہے کہ جب بھی کبھی عدالتوں نے کوئی فیصلہ دیا تو اس کے بعد یا توا س میں ترمیم کی گئی یا پھر نئی قانون سازی کی گئی۔ ان درخواستوں کی سماعت بدھ تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

اسی بارے میں