نیٹو ٹینکرز: ’ٹرمینل کا علم نہیں تھا‘

وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ اسلام آباد کی انتظامیہ کو سنگ جانی کے قریب نیٹو فورسز کو سامان کی ترسیل کرنے والے اڈے کا علم نہیں تھا۔

نیٹو ٹینکرز حملہ

یہ بات انہوں نے بدھ کے روز پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائسز (پمز) میں نیٹو فورسز کو سامان فراہم کرنے والے ٹرکوں اور کنٹینروں پر حملے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نیٹو فورسز کو خوراک اور دیگر سازوسامان کی سپلائی کے لیے جانے والے ٹرکوں اور کنٹینرز کی حفاظت کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا ازسرنو جائزہ لے گی۔

انہوں نے کہا کہ سامان کی ترسیل کرنے والی کمپنیوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان ٹرکوں کی حفاظت کے لیے انتظامات کریں۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس میں پولیس کے علاوہ انٹر سروسز انٹیلیجنس، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے علاوہ انٹیلیجنس بیورو کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کا بھی حکم دے دیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس واقعہ میں شدت پسندوں کے علاوہ کچھ جرائم پیشہ افراد بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو کیے گئے حملے کے وقت ٹرمینل پر پچاس ساٹھ کے قریب ٹرالر کھڑے تھے جن پر سامان بھی لدا ہوا تھا۔

حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے ٹرالرز میں آگ لگائی جس کے نتیجے میں پچاس فیصد ٹرالرز جل گئے۔

تھانہ ترنول جس کی حدود میں یہ واقعہ پیش آیا اس کے ایس ایچ او شاہ نواز نے بتایا کہ حملے میں سات افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں ٹرالرز کے ڈرائیور اور کلینر شامل ہیں جو اپنے ٹرالرز کے اوپر ہی سو رہے تھے۔

اسی بارے میں