آئینی ترمیم: ’ریفرنڈم کرایا جا سکتا ہے‘

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ آئین میں ریفرنڈم صرف کسی فوجی جنرل کو صدر بنانے کے لیے نہیں رکھا گیا بلکہ اس کو آئین میں ترمیم کے سلسلے میں عوامی رائے معلوم کرنے کے لیے بھی استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔

بدھ کے روز چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ نے اٹھارویں ترمیم میں کچھ شقوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی تو چیف جسٹس نے سپریم کورٹ بار کے وکیل حامد خان سے استفسار کیا کہ کیا کبھی پاکستان میں عوام کی فلاح وبہبود یا کسی آئینی ترمیم کے حوالے سے کوئی ریفرنڈم کروایا گیا ہے جس کا حامد خان نے نفی میں جواب دیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئین میں ریفرنڈم کی شق شامل کرنے کا مقصد یہ تھا کہ کسی بھی معاملے پر لوگوں کی رائے لی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ریفرنڈم کی اہمیت اور آئین کی تمام شقوں کو فعال رکھنا چاہیے۔

بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں ریفرنڈم صرف اُن افراد کے لیے کروایا گیا جو غیر آئینی طریقے سے اقتدار میں آئے۔

سپریم کورٹ بار کے وکیل حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ریفرنڈم کبھی بھی شفاف نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے ملکوں میں ریفرنڈم کروایا جاسکتا ہے لیکن اتنی بڑی آبادی والے ملک میں ریفرنڈم کا شفاف ہونا کسی صورت میں بھی ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیلجیم میں جب بھی کبھی آئین میں ترمیم کرنا ہوتی ہے تو پارلیمنٹ تحلیل کردی جاتی ہے جس کے بعد لوگ عوامی نمائندوں کو نیا مینڈیٹ دیکر پارلیمنٹ میں بھیجتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا میں بھی پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کرنے کے محدود اختیارات دیے گئے ہیں۔

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں ترمیم کرنے کے حوالے سے پارلیمنٹ کے اختیارات کو محدود نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی عدالت عظمیٰ کے نظرثانی کے اختیارت کو محدود کیا جاسکتا ہے۔

جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ سنہ اُنیس سو پچاسی میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات ہوئے تھے لیکن اُس وقت کے ارکان پارلیمنٹ نے کوئی منشور نہ ہونے کے باوجود آئین میں ترامیم کی تھیں۔

بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی کچھ ارکان پارلیمنٹ نے کرنی ہیں تو پھر عدلیہ کو انتظامیہ اور مقننہ سے علیحدہ کرنے کی باتیں بےسود ہیں۔

حامد خان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی آزادی آئین کے بنیادی خدوخال سے تعلق رکھتی ہے اس لیے ججوں کی تقرری میں اُسی طریقے سے کی جائے جو آئین میں درج ہے اور اس کے لیے کسی جوڈیشل کمیشن کی ضرورت نہیں ہے۔

سپریم کورٹ بار کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالتی اختیارات کو کسی طور پر بھی محدود نہیں کیا جاسکتا۔

جسٹس خلیل الرحمن رمدے کا کہنا تھا کہ ایسی عدلیہ کسی کو بھی قابل قبول نہیں ہوگی جو وزیر قانون کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی رہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدلیہ کو جب کبھی بھی موقع ملا اُس نے غیر آئینی اقدام کے خلاف کارروائی کی۔

اُدھر پنجاب حکومت کی طرف سے اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے ایک جواب عدالت میں جمع کروایا گیا ہے جس میں پنجاب حکومت نے ان درخواستوں میں وفاقی حکومت کی حمایت کرنے کے بارے میں کہا ہے۔

پنجاب حکومت کے وکیل شاہد حامد کا کہنا تھا کہ حکومت پارلیمنٹ کی بالادستی پر بھی یقین رکھتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر بھی عمل ہونا چاہیے۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اعلی عدالتوں میں ججوں کی تقرری کا طریقہ کار میثاق جمہوریت میں بھی درج ہے۔

اُدھر سپریم کورٹ نے ان درخواستوں کی سماعت جمعرات تک ملتوی کردی ہے اور عدالت نے سرکار کے وکیل کمال اظفر سے کہا کہ وہ جمعرات کو اپنے دلائل دیں۔

اسی بارے میں