ہنزہ: جھیل کی سطح میں مزید کمی

عطا آباد میں بنی جھیل سے بدھ کو تقریباً چار ہزار سات سو کیوسک پانی کا اخراج ہوا اور جھیل کی سطح میں پانچ انچ کی کمی واقع ہوئی ہے۔

چار جنوری کو پہاڑی تودہ گرنے سے دریائے ہنزہ کا بہاؤ رکنے سے جھیل بنی تھی۔ انتیس مئی کو جھیل سے پانی کے اخراج کے لیے بنائے گئے سپل وے سے پانچ کیوسک پانی کا اخراج شروع ہوا تھا اور اس میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔

پچھلے تین روز میں اخراج کی مقدار میں تین سو کیوسک سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ تاہم بند کے کٹاؤ کے عمل میں تیزی واقع نہیں ہوئی ہے۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار رضا ہمدانی سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ہنزہ نگر ظفر وقار تاج نے بتایا کہ یہ بڑی خوش آئیند بات ہے کہ پانی کا اخراج آہستہ ہو رہا ہے۔

ہنزہ نگر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پانی کے اخراج کی مقدار جھیل میں پانی کی آمد سے زیادہ ہے جس وجہ سے جھیل کی سطح میں کمی واقع ہوئی ہے۔

انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اس وقت جھیل میں پانی کی آمد تقریباً چار ہزار کیوسک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جھیل کی سطح میں کمی کے باعث گوجال تحصیل میں واقع دیہات جیسے ششکٹ، گلمت اور حسینی ہیں ان کا مزید ڈوبنے کا خدشہ بھی ٹل گیا ہے۔

تاہم فوکس پاکستان کے ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ جون کے آخری ہفتے سے جھیل میں پانی کی آمد میں تیزی آئے گی اور امید ہے کہ اس عرصے میں بغیر کسی نقصان کے جھیل کے پانی کے اخراج میں کافی حد تک اضافہ ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ جولائی میں دریائے ہنزہ میں پانی کی آمد سات ہزار کیوسک سے زائد ہوتی ہے۔

اسی بارے میں