’جھوٹ اور سچ جانچنے والی مشینز خریدیں‘

لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو اسی مشینوں کی خریداری کے لیے رقم مختص کرنے کی ہدایت کی ہے جن کے ذریعے جھوٹ اور سچ جانچا جاسکے ۔

فائل فوٹو، لاہور ہائی کورٹ
Image caption دینا میں ابھی تک کوئی ایسی مشین ایجاد نہیں ہوئی جو حتمی طور یہ جھوٹ اور سچ میں تمیز کر سکے: ڈاکٹر ہارون احمد

بدھ کو عدالت نے یہ حکم بیرسٹر جاوید اقبال جعفری کی اس درخواست پر دیا جس میں مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف سمیت دیگر سیاست دانوں کے بیرون ملک اثاثوں کو پاکستان واپس لانے کی استدعا کی گئی تھی۔

درخواست گزار میں یہ بھی کہا گیا کہ سیاست دان اپنے اثاثوں کے بارے میں مکمل معلومات فراہم نہیں کرتے اس لیے ان سے ان کے اثاثوں کی مکمل معلومات حاصل کرنے کے لیے جھوٹ اور سچ جانچنے والی مشینں استعمال کی جائے اور اس مقصد کے لیے حکومت پاکستان یہ مشینیں خریدے۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل نوید عنایت ملک نے عدالت کو بتایا کہ وہ مشینیں جن سے جھوٹ سچ کی جانچ کی جاسکتی ہے ان کی خریدی کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی ۔

انہوں نے کہا کہ اگر عدالت ایسی مشنیں خریدنے کے بارے میں کوئی احکامات یا تجویز دے گی تو اس معاملے کو نیشنل اکنامک کونسل کو بھجوایا جاسکتا ہے۔

جسٹس اعجاز احمد چودھری نے سماعت کے دوران کہا کہ جھوٹ اور سچ کو جانچنے والی مشینیں ناصرف عدالتوں کے لیے کار آمد ہیں بلکہ یہ تحقیقاتی اداروں کے لیے بھی مفید ہونگی۔

ہائی کورٹ کے جج جسٹس اعجاز احمد چودھری نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ ان جدید مشنیوں کے بارے میں رپورٹ تیار کرے اور ان مشینوں کی خریدی کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے جائیں تاکہ ان مشینوں کے ذریعے جدید انداز میں بلاتاخیر تفتیش مکمل کی جاسکے۔

ُادھر نامور قانون دان عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ اس طرح کی مشینں پاکستان میں ہونی چاہئیں اور ان مشنیوں کو تفتیش کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے تاہم عدالتیں ان مشینوں پر مکمل انحصار نہیں کرسکتی کیونکہ اس جو شہادت ملے گی وہ پختہ نہیں ہوگی۔

ان کا کہنا ہے کہ دینا کے کئی ممالک میں جھوٹ کو جانچنے کی مشینیں تفتیش کے لیے استعمال ہو رہی ہیں جبکہ پاکستان میں فورنسک کم ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس جدید مشنیوں کے ذریعے اس کمی کو پورا کرے۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ جھوٹ کو جانچنے کی مشین اس قدر جدید ہے کہ اس کو پاکستان میں استعمال میں لانے میں کئی سال لگیں گے۔

ممتاز ماہر نفسیات ڈاکٹر ہارون احمد کے بقول جھوٹ کو جانچنے کی مشین کو تفتیش کے لیے ایک آلہ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے تاہم فنی اعتبار سے اس مشین پر انحصار نہیں کیاجاسکتا ۔ان کے بقول دینا میں ابھی تک کوئی ایسی مشین ایجاد نہیں ہوئی جو حتمی طور یہ جھوٹ اور سچ میں تمیز کر سکے۔

اسی بارے میں