مہمند ایجنسی: دو اہلکاروں سمیت آٹھ ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز اور مبینہ عسکریت پسندوں کے درمیان ایک جھڑپ میں دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت چھ شدت پسند ہلاک جبکہ تیرہ زخمی ہوگئے ہیں۔

مہمند ایجنسی میں ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی رات مبینہ عسکریت پسندوں نے تحصیل بائیزئی کے علاقے شونکڑئی میں سکیورٹی فورسز کے ایک چیک پوسٹ پرراکٹ اور مارٹر گولوں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوگئے ہیں۔

پشاور میں ہمارے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو اہلکار نے بتایا کہ شدت پسندوں کے حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بھاری توپخانے کا استعمال کیا اور شدت پسندوں کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اس جوابی کارروائی میں چھ شدت پسند ہلاک اور سات زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران شدت پسندوں کے تین ٹھکانے بھی تباہ ہوگئے۔

یاد رہے کہ پولیٹکل ایجنٹ مہمند ایجنسی نے گزشتہ سال پشاور کے صحافیوں کے ایک ٹیم کو بتایا تھا کہ مہمند ایجنسی کو شدت پسندوں سے صاف کرلیا ہے۔ انہوں کہا تھا کہ مہمند ایجنسی سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین اب واپس اپنے علاقے لوٹ سکتے ہیں۔

مگر پولیٹکل ایجنٹ کے اس اعلان کے کچھ عرصہ بعد سکیورٹی فورسز اور مبینہ عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئی جو اب تک وقفے وقفے سے جاری ہے۔جس میں دونوں فریقین کو کافی جانی و مالی نقصان پہنچا ہے۔