سزائے موت کے قیدی سے شادی کےاحکامات واپس

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے ان احکامات کو واپس لے لیا ہے جس کے تحت ایک لڑکی کو سزائے موت کے قیدی کے ساتھ شادی کرنے کی اجازت دی تھی۔

فائل فوٹو، جیل
Image caption عدالت نے لڑکی کو شوکاز جاری کرتے ہوئے انھیں دالامان بھیج دیا ہے اور مزید کارروائی بائیس جون تک ملتوی کردی

بدھ کو عدالت نے یہ حکم عدالتی فیصلے پر نظرثانی کے لیے دائر کی جانے والی اس درخواست پر دیا جو لڑکی کے والد سرور نے دائر کی۔

ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز احمد چودھری نے لائبہ سحر نامی اس لڑکی کو شوکاز نوٹس بھی جاری کر دیا ہے جس نے جیل میں قید شخص سے شادی کرنے کے لیے عدالت کے سامنے غلط بیانی کی اور حقائق کو پوشیدہ رکھا۔

اس سے پہلے عدالت نے لائبہ سحر کی ایک درخواست کو منظور کرتے ہوئے اسے جیل میں سزائے موت کے قیدی عتیق الرحمان سے شادی کرنے کی اجازت دی تھی اور جیل حکام کو ہدایت کی کہ قیدی کے نکاح کے لیے انتظام کیا جائے اور نکاح کی رسم جیل سپرنٹنڈنٹ کے دفتر میں ادا کی جائے۔

اس عدالتی فیصلے پر نظرثانی کے لیے لائبہ کے والد سرور نے عدالت سے رجوع کیا اور عدالت کو بتایا کہ ان کی بیٹی یعنی لائبہ سحر کا اصل نام سدرہ کنول ہے اور اس نے حقائق کو پوشیدہ رکھا اور عدالت کے سامنے غلط بیانی کی ہے اس لیے عدالت لڑکی کو شادی کی اجازت دینے کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ درخواست گزار محمد سرور نے عدالت کو بتایا کہ اس کی بیٹی کی شادی ندیم احمد نامی شخص کے ساتھ چھبیس اپریل دو ہزار کو ہو چکی ہے اور بغیر طلاق کے وہ دوسری شادی نہیں کرسکتی۔

سماعت کے دوران سدرہ کنول کے وکیل نے عدالت کے ذریعے حاصل کی گئی طلاق کی دستاویزات کو پیش کیا جبکہ لڑکی کے والد کی جانب سے عدالت کو بتایا کہ انہیں یا ان کے داماد ندیم احمد کو ان احکامات کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے اور طلاق کی یہ ڈگری یکطرفہ کارروائی کے نتیجے میں جاری ہوئی جس کو چیلنج کیا جائے گا۔

ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز احمد چودھری نے سدرہ یعنی لائبہ کو قیدی عتیق سے شادی کرنے کی جو اجازت دی تھی ان احکامات کو واپس لے لیا اور کہا کہ عدالت میں جو طلاق کے دستاویزات پیش کیے گئے ہیں ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سدرہ نے عدالت سے غلط بیانی کی ہے۔

جسٹس اعجاز احمد چودھری نے لڑکی کو شوکاز جاری کرتے ہوئے اسے دارالامان بھیج دیا ہے اور مزید کارروائی بائیس جون تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ لائبہ سحر نے اپنی درخواست میں یہ موقف اختیار کیا کہ اس کی عتیق الرحمان نامی شخص کے ساتھ منگنی ہوئی تھی تاہم اس کے منگیتر کو ایک مقدمہ میں سزائے موت ہوگئی ہے اور جیل میں قید ہے۔

درخواست میں بتایا گیا کہ درخواست گزار اپنے قیدی منگیتر کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے کچھ عرصہ قبل جیل کو حکام کو درخواست بھی دی تھی جو منظور نہیں کی گئی۔ اس لیے درخواست خاتون کو اپنے قیدی منگیتر سے شادی کرنے کی اجازت دی جائے۔

اسی بارے میں