’بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی‘

اس واقعے نے ہماری جماعت کو متحد کر دیا ہے اور ہمارے ضمیر کو جگا دیا ہے: شعیب لاہور میں احمدیوں پر شدت پسندوں کے حملوں کے بعد احمدی کمیونٹی کے افراد اپنے احساسات بتانے سے گریزاں ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو وہ خوف ہو سکتی ہے جو کسی بھی اقلیتی آبادی کو ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے بعد ہو سکتی ہے اور دوسری وجہ یہ کہ اس فرقے کے لوگ سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی بات کرنے سے ان کے مسائل میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں شدت پسندی کے آئے روز واقعات ہوتے رہتے ہیں جس میں درجنوں افراد لقمہء اجل بنتے ہیں لیکن احمدیوں پر حملہ ایک لحاظ سے مختلف ہے کیونکہ اس حملے میں متاثرین کے اہل خانہ اپنے احساسات کا اظہار کھل کر کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

اکثر شدت پسندی کے واقعات کے بعد متاثرین کے اہل خانہ شدت پسندوں کو انتہائی بُرا کہنے کے علاوہ برملا بد دعائیں دیتے ہیں اور حکومت پر امن و امان کی بری صورتحال پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہیں۔ لیکن لاہور میں بی بی سی کی نامہ نگار منا رانا کا کہنا ہے کہ احمدیوں پر حملے کے بعد، جن میں نوے کے قریب افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے، متاثرین کے اہل خانہ اس طرح کے جذبات کا اظہار کرنے سے کترا رہے ہیں۔

اکثر مبصرین احمدیوں پر حملے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیتے ہیں۔ میں نے چند احمدیوں سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور چاہا کہ وہ اپنے خاندان سے میری بات کروائیں تاکہ یہ جانا جا سکے کہ ان حالات میں وہ پاکستان کو کیا اپنے لیے محفوظ ملک تصور کرتے ہیں لیکن ان افراد نے کہا کہ وہ اس حملے کے ذہن میں کوئی بھی بات نہیں کرنا چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم کوئی بھی بات کریں گے تو اسے سیاسی رنگ دے دیا جائے گا۔

حملے کے زحمیوں سے ملنے جناح ہسپتال گئی تو منظر اس سے پہلے کے شدت پسندی کے واقعات سے یکسر مختلف پایا۔

جناح ہسپتال کے مین گیٹ سے لے کر اس جگہ تک جہاں یہ زخمی زیر علاج تھے ہر جگہ بڑی تعداد میں پولیس اہلکار موجود تھے۔

ان زحمیوں کے وارڈ کے باہر آہنی دروازہ تھا جس پر تالا لگا تھا اور باہر درجن سے زائد پولیس اہلکار بیٹھے تھے جنہوں نے تالا ہی نہیں کھولا تو اندر کیسے جاتی۔ اسی اثناء میں وہاں احمدی جماعت کی جانب سے ان زحمیوں کی تیمار داری کے لیے تعینات کیے گئے طاہر محمود پہنچ گئے۔ان سے درخواست کی تو بڑی دیر بحث کے بعد انہوں نے اندر سے زخمیوں کے دو رشتے داروں جن میں ایک خاتون اور ایک نوجوان تھا باہر بلایا۔ لیکن بات کرنے کے دوران طاہر محمود وہیں موجود رہے اور مسلسل ان دونوں کو اشارے کرتے رہے کہ وہ کوئی بھی ایسی ویسی بات نہ کر سکیں۔

خاتون تو یہی کہتی رہیں کہ اللہ ان پر پڑی مصیبت کو ٹالے گا۔ جبکہ شعیب نامی نوجوان جو اس حملے کے دوران مسجد سے باہر ڈیوٹی دے رہے تھے انہوں نے جوش میں کچھ کہنا چاہا تو انہیں بھی طاہر محمود نے ٹوک دیا اور مجھ سے کہا کہ ’اب آپ مزید بات نہ کریں‘۔

شعیب سے جتنی بات ہو سکی اس میں انہوں نے بتایا کہ وہ ماڈل ٹاؤن والی عبادت گاہ کے باہر تھے جہاں دو شدت پسند تھے اور ان کے پاس اتنا زیادہ اسلحہ تھا جس سے لگتا تھا کہ ان کے پیچھے کوئی ایجنسی ہے۔

شعیب کے مطابق انہوں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ ’یہ کیا انسانیت ہے۔‘ جب میں نے شعیب سے پوچھا کہ کیا وہ پاکستان کو اپنے لیے محفوظ سمجھتے ہیں تو جواب طاہر محمود دینے لگے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ان کی سکیورٹی کے لیے بہت کچھ کر رہی ہے۔

شعیب نے اس موقع پر اتنا کہا کہ اس واقعے نے ہماری جماعت کو متحد کر دیا ہے اور ہمارے ضمیر کو جگا دیا ہے جس پر طاہر محمود نے پھر ان کی بات کاٹ دی اور مزید بات نہیں کرنے دی۔

اس بات چیت سے اور کچھ اور احمدی فرقے کے لوگوں سے بات کر جو تاثر پیدا ہوا کہ ان لوگوں کو ان کی جماعت کی جانب سے کافی سخت ہدایات ہیں کہ کوئی ایسی بات نہ کی جائے جس سے ان کے خیال میں کوئی بگاڑ پیدا ہو اور یہ بھی اندازہ ہوا کہ ان کے خیالات شدت پسندی کے شکار دیگر پاکستانی خاندانوں سے مختلف ہیں۔

اسی بارے میں