گنجائش کم قیدی زیادہ

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی واحد سنٹرل جیل میں اٹھارہ سو قیدی رکھنے کی گنجائش ہے مگر جیل انتظامیہ کے مطابق سنٹرل جیل میں اس وقت چار ہزار افراد قید ہیں۔ جن میں ملزم اور مجرم دونوں طرح کے قیدی شامل ہیں۔ ان قیدیوں کو جیل کے مختلف بیرک اور وارڈز میں تکلیف دہ حالات میں رکھاگیا ہے۔ جیل انتظامیہ کے مطابق ان کے پاس اس طرح کے انتظامات کرنے کےعلاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ گزارا نہیں ہوتا کیا کریں گزارا نہیں ہوتا کیا کریں گزارا نہیں ہوتا jail series riaz audio کیا کریں گزارا نہیں ہوتا کیا کریں گزارا نہیں ہوتا جیل پولیس کے بارے میں، سنئیے فیچرکیا کریں گزارا نہیں ہوتا

سنٹرل جیل کراچی اٹھارہ سو ننانوے میں قائم کی گئی تھی جب کراچی شہر کی آبادی موجودہ آبادی سے بہت ہی کم تھی۔محکمہ جیل خانہ جات کے انسپکٹر جنرل غلام قادر تھیبو کا اندازہ ہے کہ جب کراچی سنٹرل جیل ابتدائی طور پر ایک ہزار قیدیوں کے لیے تعمیر کی گئی تھی تب کراچی ایک چھوٹا شہر تھا جس کی آبادی ایک یا ڈیڑھ لاکھ تھی۔ان کے مطابق وقت کے ساتھ شہر کی آبادی میں بے پناہ اضافہ ہوتا گیا اور آج کراچی ڈیڑھ کروڑ نفوس کا کاسموپولیٹن شہر بن گیا ہے مگر سنٹرل جیل ایک ہی موجود ہے۔جہاں بعد میں نئے بیرکس تعمیر کرکے گنجائش اٹھارہ سو کردی گئی ہے۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں قائم جیلوں کے حالات سنٹرل جیل سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں۔

کراچی سنٹرل جیل انتظامیہ سے حاصل کردہ اعدادو شمار کے مطابق جیل کی موجودہ آبادی میں سے دو ہزار نو سو اڑتالیس ملزمان انڈر ٹرائل پرزنر یا آسان اردو میں سی کلاس کے کچے قیدی ہیں جن کےمقدمات زیر سماعت ہیں اور عدالتوں میں سے ان کو سزا نہیں ہوئی ہے۔ تئیس ملزم بی کلاس میں قید ہیں جبکہ ستائیس غیرملکی ملزمان بھی بی کلاس میں قید ہیں۔

جیل انتظامیہ کے مطابق جیل میں عام قیدیوں کو سی کلاس کی بیرکوں میں رکھا جاتا ہے جبکہ مالی، سیاسی اور طبقاتی لحاظ سے بااثر ملزمان کو بی کلاس میں رکھا جاتا ہے جو کہ سی کلاس سے بہتر حالات و سہولیات والی بیرکوں پر مبنی بلاک ہے۔ بی کلاس کے قیدیوں کو خدمت گار بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔

سنٹرل جیل انتظامیہ کےمطابق سزایافتہ قیدیوں کی آبادی میں سے چھ سو سترہ سی کلاس میں، اکیس بی کلاس میں اور چوبیس غیرملکی قیدی شامل ہیں۔کراچی سنٹرل جیل میں ایک سو سترہ ایسے افراد قید ہیں جن کو مختلف عدالتوں سے سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

سپریم کورٹ کے وکیل اور قیدیوں کے انسانی حقوق کی تنظیم کے صدر ضیاء اعوان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جیل آج کے جدید دور میں بھی غلامی کے اڈے بنے ہوئے ہیں۔ جہاں اتنے مسائل بڑھ رہے ہیں کہ وہ انہیں ٹائم بم سے تعبیر کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ انڈر ٹرائل قیدیوں اور کم عمر بچوں کو جیل کے اندر پیشہ ورانہ مجرموں کے ساتھ رکھا جاتا ہے، جہاں سے وہ جرم کی دنیا میں داخل ہوتے ہیں اور وہ جیلوں کو جرم کی یونیورسٹیاں قرار دے رہے ہیں۔

کراچی سنٹرل جیل شہر کےگنجان آباد علاقے میں جمشید روڈ اور پی آئی بی کالونی کے قریب چوہتر ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے۔ سنٹرل جیل کراچی کی چاردیواری کے اندر زنانہ جیل، بچوں کی جیل اور صوبائی سربراہ انسپکٹر جنرل کے دفاتر سمیت جیل خانہ جات سے متعلقہ تمام دفاتر موجود ہیں۔

جیل سپرنٹنڈنٹ نصرت منگن کےمطابق سنٹرل جیل کراچی میں کبھی کبھار جیل کی اصل گنجائش کے مطابق قیدی موجود رہے ہیں۔ مگر اکثر وقت جیل گنجائش سے زیادہ قیدیوں سے بھرا ہوا رہا ہے۔انہوں نے بتایا ہے کہ مئی دو ہزار نو کے دنوں میں چھ ہزار پانچ سو قیدی سنٹرل جیل میں قید رہے ہیں۔

ایڈووکیٹ ضیاء اعوان کا کہنا ہے کہ جیل کی آبادی کم کرنے کےلیے کمیونٹی کورٹس تشکیل دی جائیں جہاں ٹریفک حادثات اور گھریلو جھگڑوں جیسے چھوٹے چھوٹے جرائم میں سرکاری دفاتر کو رنگ کرنے اور ہسپتالوں کی صفائی کرنے جیسی سزائیں دی جائیں تاکہ چھوٹے جرم کے ملزموں کو جرائم پیشہ افراد سے الگ رکھا جائے اور جیل کی آبادی بھی کم رہے۔ ان کےمطابق نئے جیل تعمیر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔