ریفرنڈم کب اور کیوں؟

پاکستان کے آئین میں کسی اہم قومی معاملے پر عوامی رائے کو جاننے کے لیے ریفرنڈم کروانے کی گنجائش تو موجود ہے لیکن آئین کی اس شق کو اس وقت استعمال کیا گیا جب آئین معطل تھا۔

پاکستان میں دو مرتبہ ریفرنڈم کروایا گیا اور دونوں بار فوجی جرنیلوں نے آئین کی معطلی کے دوران صدرِ مملکت کے منصب پر قابض ہونے کے لیے ریفرنڈم کروانے کا اعلان کیا اور بعدازاں فوجی وردی میں ہی ملک کے صدر بن گئے۔

پہلا ریفرنڈم انیس دسمبر انیس سو چوراسی میں اس وقت کے فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق نے ملک میں عام انتخابات کرانے اور آئین کو بحال کرنے سے قبل کروایا ۔اس طرح جنرل پرویز مشرف نے بھی آئین کی بحالی اور انتخابات سے پہلے تیس اپریل دوہزار دو کو ریفرنڈم کے ذریعے اپنے صدرِ پاکستان بننے کا اعلان کیا۔

پاکستان کے آئین کے آرٹیکل اڑتالیس کی ذیلی شق چھ میں ریفرنڈم کا تذکرہ کیا گیا ہے اور آئین کے اس آرٹیکل کے تحت اگر صدر کسی وقت اپنی صوابدید پر یا وزیر اعظم کے مشورے پر یہ سمجھے کہ یہ مناسب ہوگا کہ قومی اہمیت کے کسی معاملے پر ریفرنڈم کے حوالے کیا جائے تو صدر اس معاملے کو ایک سوال کی شکل میں جس کا جواب یا تو’ہاں‘ یا ’نہیں‘ میں دیا جاسکتا ہو ریفرنڈم کے حوالے کرنے کا حکم دے گا۔

پارلیمان کے ایکٹ کے ذریعے ریفرنڈم کرنے اور ریفرنڈم کے نتیجے کی تدوین اور طریقہ کار مقرر کیا جاسکے گا۔

Image caption ضیاالحق نے اس وقت ریفرنڈم کرایا جب آئیں معطل تھا

سابق وفاقی وزیر قانون ایس ایم مسعود کے بقول جب چودہ اگست انیس سو تہتر کو آئین بنا تو اس میں ریفرنڈم کروانے کی کوئی شق یا گنجائش نہیں تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ستتر کے عام انتخابات کے بعد اپریل میں آئین میں ترمیم کی گئی اور ریفرنڈم کروانے کی شق آئین میں شامل ہوگئی۔

ایس ایم مسعود کے مطابق ریفرنڈم کروانے کے لیے آئین میں ترمیم اس لیے کی گئی تھی تاکہ اس وقت حزب مخالف کے احتجاج سے پیدا ہونے والی صورت میں ضرورت پڑنے پر وزیر اعظم دوبارہ ریفرنڈم کے ذریعے عوام سے رجوع کرتے اور فیصلہ لیتے۔ ان کے بقول ریفرنڈم کی اس شق کو صرف ایک ہی مرتبہ استعمال ہونا تھا تاہم اس سے پہلے ریفرنڈم کروانے کی ضرورت پڑتی جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو برطرف کردیا۔

ایس ایم مسعود کا کہنا ہے کہ جنرل ضیاء اور جنرل پرویز مشرف نے جو ریفرنڈم کروائے تھے آئین کے تحت نہیں تھے کیونکہ اس وقت آئین معطل تھا اور جو نام و نہاد ریفرنڈم ہوئے وہ مارشل لاء کے قواعد کے تحت ہوئے اس لیے نہ تو وہ ریفریڈم آئینی تھے اور نہ عوام نےریفرنڈم کے نتائج کو تسلیم کیا۔

الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ جس شخص نے آئین میں ترمیم کرکے ریفرنڈم کروانے کی گنجائش پیدا کی وہ خود کبھی اس سہولت کو استعمال نہ کرسکے۔

Image caption فوجی آمر اقتدار پر قابض رہنے کے لیے ریفرنڈم کراتے رہے

کنور دلشاد کے بقول دونوں فوجی جرنیلوں نے جو ریفرنڈم کرائے ان کا انتظام الیکشن کمیشن پاکستان نے کیا تھا اور ان دونوں ریفرنڈم میں یہ فرق ہے کہ جنرل ضیاء کے ریفرنڈم میں انتخابی فہرستیں استعمال کی گئیں جبکہ جنرل مشرف کے ریفرنڈم میں ہر کسی کو ووٹ ڈالنے کی اجازت تھی اور بیلٹ بکس پبلک مقامات پر رکھے گئے تھے۔

اگرچہ پاکستان میں آئین کی بحالی کے دوران کبھی بھی کسی اہم قومی معاملے پر ریفرنڈم نہیں کروایا اور اسی بات کی نشاندہی بدھ کے روز اٹھارویں ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے لیے سپریم کورٹ نے بھی کی اور کہا کہ ریفرنڈم کو آئین میں ترمیم کے سلسلے میں عوامی رائے معلوم کرنے کے لیے بھی استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔

تاہم قانونی ماہرین اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ آئین میں ترمیم کے لیے ریفرنڈم کروایا جائے۔ سپریم کورٹ بار کے سابق صدر حامد خان کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم آئین میں ترمیم یا صدارتی انتخاب کے لیے نہیں کراسکتا۔ ان کے بقول پاکستان کے آئین ایسی کوئی شق شامل نہیں ہے جس کے تحت آئینی ترمیم کے لیے ریفرنڈم کرایاجائے۔

سابق وزیر قانون اور وکیل رہنما اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم کروانا حکومت کے اختیار میں ہے اور ہر بات پر ریفرنڈم نہیں کرایا جاسکتا۔ ان کے بقول پاکستان میں جو دو ریفرنڈم ہوئے ہیں وہ متنازعہ ہیں۔