افغان سرحد کے قریب ڈرون حملہ، دس ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں افغانستان کی سرحد کے قریب ہونے والے ایک ڈرون حملے میں کم سے کم دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کی صبح شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سے تقریباً پچیس کلومیٹر دور دتہ خیل کے علاقے میزار خیل میں پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ بغیر پائلٹ کے امریکی ڈرون طیارے سے ایک مشتبہ مکان پر دو میزائل داغے گئے جس سے وہاں موجود دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حملے میں دو کمروں پر مشتمل ایک مکان مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔

بی بی سی اردو کے رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان سے بتایا جاتا ہے تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ان میں کوئی غیر ملکی بھی شامل ہے یا نہیں۔

یہ بارہ گھنٹے کے عرصے میں شمالی وزیرستان میں ہونے والا دوسرا ڈرون حملہ ہے۔ جمعرات کو بھی اسی علاقے میں ایک ڈرون حملہ ہوا تھا جس میں تین مشتبہ شدت پسند مارے گئے تھے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے قبائلی علاقوں اور خیبر پختون خواہ کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں امریکی ڈرون حملوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بھی ڈرون حملوں کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق گزشتہ سال فاٹا میں ترپّن ڈرون حملے ہوئے تھے اور رواں سال کے دوران اب تک پینتس کے قریب حملے ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں