سینٹ میں حج اخراجات پر ہنگامہ

پاکستان کے پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ میں جمعے کو حج اخراجات میں اضافہ واپس نہ لینے پر ہنگامہ ہوگیا جس پر حزب مخالف نے احتجاج کیا اور ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا۔

Image caption پاکستان سینٹ، اسلام آباد

ایوان کی مذہبی امور سے متعلق قائمہ کمیٹی کے چیئرمین محمد صالح شاہ نے حکومت کی اعلان کردہ حج پالیسی کے بارے میں کمیٹی کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت اور حزب مخالف کے اراکین نے متفقہ طور پر حج اخراجات میں اضافہ واپس لینے کی سفارش کی ہے۔

نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق حکومت نے رواں سال حج کے اخراجات میں اڑتیس سے اکتالیس ہزار فی عازمِ حج اخراجات بڑھائے ہیں۔ کراچی اور کوئٹہ سے آنے جانے والوں کو گزشتہ برس کی نسبت اکتالیس ہزار اور دیگر ہوائی اڈوں سے انے جانے والوں کو اڑتیس ہزار روپے اضافی ادا کرنا ہوں گے۔

رپورٹ پر عمل کرنے کے بارے میں جب وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ حج پالسیی کی منظوری کابینہ نے دی ہے اور وہ تنہا کوئی فیصلہ تبدیل نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کی کمیٹی محض سفارش کرسکتی ہے وہ حکومت کو پابند نہیں کرسکتی۔

جس پر ایوان میں ہنگامہ ہوگیا اور ایوان کی دونوں جانب کے اراکین نے واک آؤٹ کیا۔ بعد میں طے پایا کہ وزیر ایوان کی سفارشات وزیراعظم تک پہنچائیں گے اور جو بھی فیصلہ ہو اُس سے ایوان کو مطلع کریں گے۔

جمعہ کو سینیٹ میں بجٹ پر بحث کے دوران اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب سائنس و ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر اعظم خان سواتی نے حکومت پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں بینظیر کے لوگوں کے لیے تو بے تحاشہ خرچہ کیا جاتا ہے لیکن تعلیم اور صحت سمیت عوام کی بہبود کے لیے رقم کم رکھی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام‘ کے لیے حکومت نے بجٹ میں اضافہ کیا ہے جبکہ ان کی وزارت کے فنڈز میں مطلوبہ اضافہ نہیں کیا گیا۔ وزیر کی تنقید کا حکمران پیپلز پارٹی کے کسی رکن نے جواب نہیں دیا لیکن پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے عبدالرحیم مندوخیل نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف حکومت کے مزے لوٹ رہے ہیں دوسری طرف اس کی پالیسیوں پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔

ایوان میں بحث جاری تھی کہ مزید کارروائی پیر کی شام تک ملتوی کردی گئی۔ ادھر قومی اسمبلی میں بھی آج بجٹ پر بحث جاری رہی اور مزید کارروائی سنیچر کی صبح تک ملتوی کی گئی۔

اسی بارے میں