چیف جسٹس کی کوئٹہ آمد، وکلاء کا بائیکاٹ

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کی کوئٹہ آمد کے موقع پر بلوچ وکلاء نے کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔

چیف جسٹس قومی جوڈیشل پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جمعہ کو کوئٹہ پہنچ رہے ہیں اور ان کی آمد پر بلوچ بار ایسوسی ایشن نے ہڑتال کی اپیل کی تھی۔

قومی جوڈیشل پالیسی کمیٹی کا اجلاس جمعہ کی شام کوئٹہ میں ہورہا ہے جس کی صدارت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کریں گے۔ اس اجلاس میں سندھ، پنجاب، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے علاوہ فیڈرل شریعت کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سیدافضال حیدر بھی شرکت کریں گے۔

ادھر بلوچ بار ایسوسی ایشن کی اپیل بلوچ وکلاء نے جمعہ کو کوئٹہ ، نوشکی، دالنبدین، مستونگ، قلات، خضدار، ڈیرہ مراد جمالی اور سبی میں عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے اور بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھی ہیں۔

بلوچ بار کے آرگنائزر صادق رئیسانی نے بی بی سی کو بتایا ’ہم اس احتجاج کے ذریعے عالمی اداروں کے سامنے یہ بات لانے کی کوشش کررہے ہیں کہ بلوچستان سے آٹھ ہزار لوگ لاپتہ ہیں جن میں مرد خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ اغواء نما گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے‘۔

نامہ نگار ایوب ترین سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’لاپتہ افراد میں سے اکثر یت کے مقدمات کی سماعت سپریم کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ میں جاری ہے لیکن آج تک ایک بلوچ بھی اِن عدالتوں کے ذریعےگھر نہیں پہنچا ہے‘۔

صادق رئیسانی کے مطابق ’بلوچوں کو نہ پہلے ان اداروں اعتماد تھا نہ اب ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بلوچستان میں اغواء نما گرفتاریوں، بلوچ علاقوں میں بمباری اور بلوچوں کو ذبرستی گھروں سے بے دخلی کا عمل تا حال جاری ہے‘۔

خیال رہے کہ سنہ دو ہزار نو میں اپنی بحالی کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری پہلی بار بلوچستان کے دورے پر کوئٹہ آ رہے ہیں۔

اسی بارے میں