کراچی میں ٹارگٹ کلنگ، دو ہلاک

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے مختلف واقعات میں مزید دو افراد کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں گزشتہ تین دنوں سے جاری ٹارگٹ کلنگ میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے وابستہ دس افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

امدادی ادارے ایدھی اور مقامی پولیس کے مطابق ہدف بنا کر ہلاک کیے جانے کا تازہ واقعہ سنیچر کو ناظم آباد کے علاقے میں پیش آیا۔

حکام کے مطابق اس واقعے میں نامعلوم مسلح افراد نے چونتیس سالہ ڈاکٹر نسیم حسن جعفری کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق مقتول اپنے کلینک پر جا رہے تھے کہ نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کر دی۔ مقتول ڈاکٹر کی میت کو عباسی شہید ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

دوسرے واقعے میں ہفتے کی صبح پانچ بجے نیو کراچی کے علاقے میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے تیس سالہ قاری رضوان ولد سلیم ہلاک ہوگیا۔ سول ہسپتال کے میڈیکولیگل افسر ڈاکٹر ظہور کے مطابق مقتول نوجوان ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ چکا تھا۔

سنی تحریک کے ترجمان کے مطابق قاری رضوان ان کی تنظیم کا کارکن تھا۔ قاری رضوان کی ہلاکت کے بعد نیو کراچی میں ہوائی فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا اور مشتعل افراد نے متعدد گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا۔

اس کشیدگی کے بعد علاقے میں پولیس اور رینجرز نےگشت بھی شروع کر دیا۔ نیو کراچی ٹاؤن کے ایس پی قمر احمد نے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ پولیس نے علاقے سے دس مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے جن کے قبضے سے اسلحہ برآمد کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ کراچی میں ہفتۂ رواں کے دوران ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے خلاف احتجاج کے دوران گودھرا، فیڈرل بی ایریا اور دیگر علاقوں میں مشتعل افراد نے متعددگاڑیوں اور دکانوں کو نذر آتش کیا تھا اورگزشتہ دو دن سے ان علاقوں میں حالات کشیدہ ہیں اور پولیس اور رینجرز کا گشت جاری ہے۔

اسی بارے میں