ہلڑ بازی:بلوچستان کابینہ کا رکن برخاست

لاہور کے ایک تھیٹر کی انتظامیہ کی شکایت پر جعفر جارج اور ان کے دو ساتھیوں کو حراست میں لیا گیا بلوچستان کے وزیرِاعلٰی نواب اسلم رئیسانی نے شراب پی کر ہلڑ بازی کے الزام میں حراست میں لیے جانے والے صوبائی وزیر جعفر جارج کو کابینہ سے برخاست کر دیا ہے۔

جعفر جارج کا تعلق صوبے کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی سے ہے اور وہ عام انتخابات میں اقلیتوں کی مخصوص نشست پر رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ان کے پاس ابھی کوئی محکمہ نہیں تھا تاہم وہ کابینہ کے رکن تھے۔

انہیں سنیچر کو لاہور پولیس نے دو ساتھیوں کو ایک تھیٹر سےگرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف شراب پی کر ہلڑ بازی کرنے کے الزام میں تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

کوئٹہ سے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق وزیراعلٰی بلوچستان نے جعفر جارج کی برخاستگی کا فیصلہ پنجاب حکومت کی رپورٹ وصول ہونے کے بعد کیا جس میں ان پر پنجاب میں قیام کے دوران نازیبا حرکات کا ذکر تھا۔

دریں اثناء لاہور کی ایک عدالت نے جعفر جارج کو ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔ اتوار کو لاہور پولیس نے جعفر جارج اور ان کے دو ساتھیوں کو مقامی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا تاہم عدالت نے جعفر جارج کا بیان ریکارڈ کر کے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ تھانہ قلعہ گجر سنگھ کے پویس افسر ماجد بشیر نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی تھیٹر کی انتظامیہ کی شکایت پر جعفر جارج اور ان کے دو ساتھیوں کو حراست میں لیا گیا ۔ ان کے بقول مقامی تھیٹر کے مینیجر حمید شاہ نے پولیس کو فون پر یہ اطلاع دی کہ بعض لوگ شراب پی کر تھیٹر ہال میں ہلڑ بازی کر رہے ہیں۔

پولیس افسر نے بتایا کہ صوبائی وزیر جعفر جارج اور ان کے ساتھیوں کا حراست میں لیا اور ان کا طبی معائنہ کرایا گیا ۔ماجد بشیر کے بقول تھیٹر کے مینیجر کی درخواست پر صوبائی وزیر بلوچستان جعفر جارج اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

ُادھر جعفر جارج اپنی گرفتاری کے بعد میڈیا سے بات کر تے ہوئے الزام لگایا کہ انہیں سیاسی طور پر انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ان کے خلاف ایک چال کے تحت یہ تمام کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سلوک اور کارروائی کے خلاف سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے بھی رجوع کریں گے۔

اسی بارے میں