اوش:’ایک پاکستانی ہلاک، سو محصور‘

ہلاک ہونے والا طالب علم علی رضا

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کرغزستان کے شہر اوش میں ہونے والے فسادات میں ایک پاکستانی شہری کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں پھنسے ہوئے دیگر سو پاکستانیوں کو محفوظ مقام پر پہنچانے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

کرغزستان کے جنوبی شہر اوش اور اس کے گردونواح میں ازبک اور کرغز آبادی کے درمیان تین دن سے جاری نسلی فسادات میں درجنوں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ ۔

کرغزستان: شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم

شاہ محمود قریشی نے بی بی سی اردو کے ذوالفقار علی کو بتایا ہے کہ ان کے پاس یہ مصدقہ اطلاع ہے کہ ایک پاکستانی طالب علم جو وہاں انجیئنرنگ کی تعلیم حاصل کر رہا تھا ان فسادات میں مارا گیا ہے۔

ہلاک ہونے والے طالب علم کا نام لعی رضا بتایا گیا ہے اور ان کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر ٹوبہ سنگھ کے قریب ایک گاؤں سے تھا۔

انہوں نے کہا کہ اوش میں پھنسے ہوئے پاکستانی طلباء و طالبات کی کل تعداد کے بارے میں اس وقت حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق قریباً ایک سو طلباء و طالبات فسادزدہ علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

Image caption کرغز عبوری حکومت نے فساد زدہ علاقے میں فوج تعینات کر دی ہے

وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق کچھ پاکستانی طالب علموں کو اوش میں یرغمال بھی بنایا گیا ہے لیکن اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا کیوں کہ یہ طالبعلم فساد زدہ علاقے میں مقیم ہیں اور وہاں رسائی آسان نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ’ہمارا سفارتخانہ کرغزستان کی وزارت خارجہ سے رابطے میں ہے اور ہمارے سفیر کرغز وزیرِخارجہ سے مل رہے ہیں اور ان سے درخواست کر رہے ہیں کہ ہمیں ان افراد تک رسائی دی جائے اور ان کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے‘۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق کرغزستان میں رہنے والے کل پاکستانیوں کی تعداد بارہ سو ہے جن میں اکثریت طالبعلم ہیں اور گرمیوں کی چھٹیوں وجہ سے ان میں سے بیشتر اپنےگھر واپس آئے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں