خون دینے کا دن

پیر کودنیا بھر میں خون کے عطیات دینے والوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ خون ایک ایسا عطیہ ہے جسے اگر کوئی دیتا ہے تو کسی نہ کسی انسان کی زندگی بچا رہا ہوتا ہے۔ طبی سائنس آج تک خون کا نعمل بدل ایجاد نہیں کر سکی اس لیے اگر کسی انسان کا خون بہہ جائے تو اس کی جان بچانے کے لیے دوسرے انسان ہی کا خون درکار ہوتا ہے

انسانی جان بچانے والے اس اہم ترین عطیے کو دینے کا پاکستان میں رجحان ایسا نہیں کہ جس کی تعریف کی جائے بلکہ حلال احمر پنجاب کے سیکریٹری ڈاکٹر عدنان کا کہنا ہے پاکستان میں خون کی ضرورت اور اس کی فراہمی میں واضح فرق ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی بھی لوگوں میں خون کا عطیہ دینے کے بارے میں مختلف قسم کے خوف پائے جاتے ہیں جبکہ چار مہینے میں ایک بارخون دینے سے انسانی صحت پر برا اثر نہیں پڑتا۔

ڈاکٹر عدنان کے بقول کہ جب کوئی آفت یا بم بلاسٹ ہوتا ہے تو پاکستانی قوم کا جذبہ خدمت ابھر آتا ہے اور اس موقعے پر لوگ بہت بڑی تعداد میں خون کا عطیہ دیتے ہیں لیکن ایسے مریض کہ جنہیں باقاعدگی سے خون کی ضرورت ہوتی ہے انہیں بہت مسائل کا سامنا ہوتا ہوتا ہے۔

سر گنگا رام ہسپتال میں واقع تھلیسمیا سنٹر میں تھلیسمیا کے مریض بچوں کے والدین اپنے بچوں کے لیے خون کے حصول کے لیے بہت پریشان تھے ان کا کہنا تھا کہ ان کے بچوں کی زندگی کے لیے باقاعدگی سے خون کی منتقلی بہت ضروری ہے اور اس کے حصول کے لیے انہیں بہت خوار ہونا پڑتا ہے۔

اس تھلیسمیا سنٹر کے انچارج ڈاکٹر عادل کہتے ہیں ان کے سنٹر میں آنے والوں کو دوسری سہولتیں تو دی جاتیں ہیں لیکن خون کا انتظام کرنا ان کی اپنی ذمہ داری ہوتی ہے جسے پورا کرنے میں انہیں بہت سے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ ڈاکٹر عادل کا کہنا ہے کہ خون دینا ہماری فطرت میں نہیں لیکن اس فطرت کو ایک آسان طریقے سے بدلا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر عادل خون کا عطیہ دینے کے عالمی دن پر پاکستانیوں کو کہتے ہیں کہ ہر صحت مند شخص کو اپنی سالگرہ کے موقعے پر ایک بوتل خون عطیے میں دینی چاھیے۔انہوں نے کہا کہ ایران میں لوگوں نے یہ طریقہ اپنایا جس سے ان کی خون کی ضرورت کافی حد تک پوری ہو گئی اور اگر ایک چوتھائی پاکستانی بھی اس طریقے سے سال میں ایک بار بھی خون کا عطیہ دے دیں تو پاکستان کی ضرورت بھی کافی حد تک پوری ہو جائے گی۔