کراچی میں فرقہ وارانہ تشدد، نو ہلاک

کراچی میں فرقہ ورانہ آج کل فرقہ وارانہ کشیدگی کی جکڑ میں ہے اور رواں ماہ کے چودہ روز میں نو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

پیر کو نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ میں اہل تشیع مسلک سے تعلق رکھنے والے مترجم اور مصنف ایوب نقوی ہلاک ہوگئے ہیں۔

ناظم آباد پولیس کے مطابق پیر کی دوپہر کو اڑسٹھ سالہ ایوب نقوی اپنی دکان کی جانب جارہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار افراد نے ان پر فائرنگ کی جس میں وہ فوت ہوگئے۔ ان کے سر میں دو گولیاں لگیں۔

ایوب نقوی ناظم آباد کی مسجد نور ایمان میں مذہبی کتابوں کی دکان کے مالک تھے۔ پولیس نے واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیا ہے۔

پیر کی شام کو کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے ایک کارکن ابراہیم منا کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ملک کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی مرکز میں گزشتہ ماہ نسلی بنیادوں پر تیس سے زائد ہلاکتیں ہوئیں مگر رواں ماہ فرقہ وارانہ ہلاکتوں نے ان کی جگہ لے لی ہے۔

یکم جون سے چودہ جون تک نو افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں سے چھ کا تعلق اہل تشیع سے ہے جبکہ کالعدم سپاہ صحابہ تنظیم کے دو اور سنی تحریک کے ایک کارکن شامل ہے۔

ان واقعات کے بعد ناظم آباد، رضویہ، انچولی اور گودھرا کے علاقوں میں گزشتہ ایک ہفتے سے کشیدگی پائی جاتی ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ ان واقعات کے حقائق جاننے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی جائے گی جس میں تمام مکتب فکر کے علماء شامل ہوں گے، جبکہ ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ اس کے سربراہ ہوں گے۔

کراچی میں پیر کو امن امان کے بارے میں اجلاس کے بعد رحمان ملک نے واقعات کو ایک مرتبہ پھر سازش قرار دیا۔ ان کے مطابق ان واقعات میں ملوث قوتوں نے پہلے نسلی فسادات کی کوشش کی اس میں ناکامی کے بعد فرقہ وارانہ فسادات کرانا چاہتے ہیںآ ان کا کہنا تھا کہ اس سے چار ماہ پہلے بریلوی اور دیوبند مسالک میں لڑائی کی کوشش کی گئی جسے ناکام بنایا گیا۔

تمام مذہبی علماء اور شخیصات اور کارکنوں کا ریکارڈ بھی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق تمام ایس ایچ اوز کو پابند بنایا جائے گا کہ وہ اپنے اپنے علاقے میں مذہبی علماء اور شخیصات سے ملاقات کریں اور ان کی معلومات رکھیں۔

رحمان ملک نے اعلان کیا کہ کالعدم تنظیموں کو کسی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی اور وہ جلوس نہیں نکال سکیں گی۔

یاد رہے کہ کالعدم سپاہ صحابہ نے نشتر پارک میں جلسے کا اعلان کیا تھا۔ نشتر پارک کے آس پاس شیعہ مسلک کےلوگوں کی بڑی آْبادی ہے اور قریب ہی شہر کی سب سے بڑی امام بارگاہ بھی واقع ہے۔ جلسے کے اعلان کے بعد شہر میں کشیدگی پائی جاتی تھی۔ حکومت کی مداخلت اور مذاکرات کے بعد سپاہ صحابہ کی جانب سے ناظم آباد میں جلسہ منعقد کیا گیا تھا۔

صوبائی وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا کہنا ہے کہ ایک کالعدم تنظیم کو جلسے کی اجازت نہیں دی تو انہیں دھمکیاں دی گئیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ افراد کو عدالتوں سے ضمانتیں مل جاتی ہیں تاہم جیلوں سے رہا ہونے والے کالعدم تنظیموں اور جرائم پیشہ عناصر کا ریکارڈ جمع کیا جارہا ہے، جس کی روشنی میں بھی کارروائی کی جائے گی۔

اسی بارے میں