کرغزستان میں پاکستانی طالب علم محصور

Image caption عبید اور ان کے ساتھی بشکک سے پاکستان پہنچے ہیں

کرغزستان کے فسادزدہ علاقوں سے بحفاظت پاکستان پہنچنے والے طالب علم کا کہنا ہے کہ وہ تاحال اپنے محصور ساتھیوں سے رابطے میں ہیں اور ان کی بحفاظت واپسی کے لیے پریشان ہیں۔

کرغزستان میں نسلی فسادات سے جان بچا کر پانچ پاکستانی طالب علم دو روز پہلے وطن واپس پہنچ گئے۔ ان میں جیکب آباد کے عبید انصاری بھی شامل ہیں جو اوش کی سٹیٹ یونیورسٹی میں میڈیکل کے آخری سال کے طالبعلم ہیں۔

عبید نے جیکب آباد سے فون پر بی بی سی کو بتایا ہے کہ جب نسلی فسادات شروع ہوئے تو وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ پِکنک پر شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ وہ جیسے ہی واپس اوش پہنچنے تو انہوں نے دور سے دیکھا کہ شہر میں عمارتوں کو آگ لگی ہوئی ہے اور ہر طرف عام لوگ مسلح ہوکر کھڑے ہیں۔

عبید کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اوش یونیورسٹی میں اپنے دیگر دوستوں سے رابطہ کیا تو محصور دوستوں نے انہیں اوش شہر میں داخل نہ ہونے اور بشکک جانے کا مشورہ دیا۔ عبید نے بتایا کہ حالات کی سنگینی کو دیکھ کر وہ اپنے پانچ پاکستانی دوستوں کے ہمراہ بشکک پہنچے اور وہاں سے پہلی میسر پرواز کے ذریعے لاہور پہنچے۔

خیال رہے کہ کرغزستان کے جنوبی شہر اوش اور اس کے گرد و نواح میں ازبک اور کرغز آبادی کے درمیان پانچ دن سے جاری نسلی فسادات میں اب تک لگ بھگ ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک اور تقریباً ایک ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔

عبید نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ کرغزستان میں جاری نسلی فسادات کے دوران ازبکوں کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کوبھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانیوں کو اوش میں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اس کی ایک وجہ پاکستانیوں کی ازبک باشندوں سے قربت ہے۔

عبید کا کہنا ہے کہ اوش میں زیرتعلیم زیادہ تر پاکستانی طلبہ و طالبات ہوسٹل میں رہنا پسند نہیں کرتے۔ انہیں یونیورسٹی کی طرف سے فلیٹ یا نجی گھروں میں رہنے کی اجازت ہوتی ہے اور زیادہ تر پاکستانی طالبات ازبک خاندانوں کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔

عبید نے بتایا ہے کہ انہوں نے پیر کے دن اپنی ایک ساتھی ڈاکٹر عنبرین سے رابطہ کیا جو چیری مشکی علاقے میں ایک ازبک خاندان کے پاس ہیں اور محصور ہیں۔ ڈاکٹر عنبرین کا تعلق پنجاب کے شہر وہاڑی سے ہے۔ انہوں نے عبید کو بتایا ہے کہ چیری مشکی میں تمام ازبک گھروں کو آگ لگادی گئی ہے اور ایک گھر بچ گیا ہے جہاں وہ محصور ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ اس گھر کو بھی کسی وقت آگ لگا دیا جا سکتا ہے۔

عبید انصاری کے ساتھ جیکب آباد کے ایک اور طالب علم زبیر احمد ،خیرپور کے فدا حسین جلالانی، جنید مرزا اور پنجاب کے ظہور احمد وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔

عبید کا کہنا ہے کہ پاکستانی طالب علموں نے کرغزستان کا رخ اس لیے کیا کہ وہاں تعلیم سستی ہے۔ ان کے داخلے جب پاکستانی یونیورسٹیوں میں نہ ہوسکے تو انہوں نے کرغزستانی تعلیمی اداروں کا رخ کیا جہاں انگریزی اور روسی زبانوں میں تعلیم دی جاتی ہے۔

عبید کا کہنا ہے کہ وہ اوش میں محصور اپنے دیگر پاکستانیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، جو بہت غیر محفوظ حالات میں ہیں اور ان کے پاس چار دنوں سے اشیاء خورد نوش کی کمی ہے۔

اسی بارے میں