مہمند ایجنسی: سکول تباہ

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں سرکاری سکولوں پر شدت پسندوں کے حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور تازہ واقعہ میں ایک سرکاری سکول کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا گیا ہے۔

فائل فوٹو

پولیٹکل انتظامیہ مہمند ایجنسی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو نامعلوم مسلح افراد نے تحصیل خوئیزئی کے دور افتادہ سرحدی علاقے اشرف آباد میں لڑکوں کے ایک پرائمری سکول کو بم دھماکوں کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ دھماکوں سے سکول کے تین کمروں پر مشتمل عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے اور چار دیواری کو بھی جگہ جگہ نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مہمند ایجنسی میں پچھلے کچھ عرصے سے سرکاری سکولوں اور دیگر تنصیبات پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک اس قسم کے واقعات میں پچاس کے قریب لڑکوں اور لڑکیوں کے سکولوں کو تباہ کیا جاچکا ہے جبکہ بیس کے قریب بنیادی صحت کے مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

پشاور سے ہمارے نامہ نگار دلاور خان وزیر کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تباہ ہونے والے سکولوں میں تعلیمی سلسلہ منقطع ہے جس کی وجہ سے ہزاروں طلبہ تعلیم کے حصول سے محروم ہوچکے ہیں۔

مقامی صحافیوں کے مطابق شدت پسندوں کے حملوں میں پچاس کے قریب سکیورٹی فورسز کی چھوٹی چیک پوسٹیں بھی تباہ کی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ تین چار سالوں سے مہمند ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف غیر اعلانیہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور ابھی تک واضح طور پر اس بات کا اعلان نہیں کیا گیا ہے کہ ایجنسی کے کن کن علاقوں کو عسکریت پسندوں سے صاف کیا گیا ہے۔

البتہ پچھلے سال مہمند ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ نے صدر مقام غلنئی کے مقام پر پشاور کے صحافیوں کی ایک ٹیم کو بتایا تھا کہ مہمند ایجنسی کو شدت پسندوں سے صاف کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے اعلان کیا تھا کہ مہمند ایجنسی سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین واپس لوٹ سکتے ہیں لیکن ابھی تک متاثرین نے واپسی کا عمل شروع نہیں کیا ہے۔

اس غیر یقینی صورتحال کے دوران ایجنسی کے کئی مقامات سے لوگ بڑی تعداد میں نقل مکانی کرکے محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے ہیں۔ ان جھڑپوں میں درجنوں شدت پسند، سکیورٹی اہلکار اور عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں