مہمند: اہلکاروں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں شدت پسندوں نے ایک چیک پر حملہ کیا ہے جس میں متعدد اہلکاروں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

فائل فوٹو، مہمند ایجنسی
Image caption مہمند ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کا غیر اعلانیہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے

تحریک طالبان پاکستان نے اغواء کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نےبی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ تحصیل خوئیزئی کے علاقے شونکڑئی میں ایک چیک پر شدت پسندوں نے حملہ کیا ہے جس میں کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ افعانستان کے علاقے سے ہوا ہے جس میں زیادہ تر افغانی طالبان شامل تھے۔ اہلکار کےمطابق حملے انہوں نے بھرپور کارروائی کی ہے جس میں پندرہ شدت پسند مارے گئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ حملے کے بعد کچھ سکیورٹی اہلکاروں سے رابط منقطع ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی لڑائی کے دوران کئی بار اہلکاروں سے رابطے منقطع ہوجاتے ہیں مگر بعد میں وہ خود آجاتے ہیں۔

پشاور سے ہمارے نامہ نگار دلاو خان وزیر نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کے ایک کمانڈر یٰسین صافی نے دعویٰ کیا ہے کہ تحصیل خوئیزئی کے علاقے شونکڑئی میں مُسلح طالبان نے چیک پوسٹ پر حملے کے دوران سات سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو ہلاک جبکہ دس کو اغواء کر لیا ہے۔

انہوں نے اغواء کیے جانے والے اہلکاروں کے نام ولدیت اور ان کے رینک بھی بتائے۔

خیال رہے کہ گزشتہ تین چار سالوں سے مہمند ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف غیر اعلانیہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور ابھی تک واضح طور پر اس بات کا اعلان نہیں کیا گیا ہے کہ ایجنسی کے کون سے علاقوں کو عسکریت پسندوں سے صاف کیا گیا ہے۔

البتہ پچھلے سال مہمند ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ نے صدر مقام غلنئی کے مقام پر پشاور کے صحافیوں کی ایک ٹیم کو بتایا تھا کہ مہمند ایجنسی کو شدت پسندوں سے صاف کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں