آخری وقت اشاعت:  پير 14 جون 2010 ,‭ 05:45 GMT 10:45 PST

اوش: پاکستانیوں کی واپسی کے لیے خصوصی طیارہ

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کرغستان کے فساد زدہ علاقے اوش میں پھنسے ہوئے پاکستانی طلبا و طالبات کو وطن واپس لانے کے لیے خصوصی طیارہ روانہ کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ خصوصی طیارہ پیر کی شام کو روانہ کیا جا رہا ہے اور اسی دوران فساد زدہ علاقے اوش میں پھنسے ہوئے طلبا و طالبات کو اوش ائر پورٹ پر فوج کی حفاظت میں پہنچایا جارہا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ پاکستان سے امدادی سامان لے کر جا رہا ہے اور وہاں سے طلبا و طالبات کو واپس وطن لائے گا۔

کلِک کرغزستان: شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار ذوالفقار علی نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق اس طیارے کو تین ممالک افغانستان، تاجکستان اور کرغزستان کی فضائی حدود استعمال کرنی ہے لہذا ان ممالک سے باضابطہ اجازت کی ضرورت تھی۔

فائل فوٹو

کرغستان کے علاقے اوش میں پرتشدد فسادات میں سو کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں

اس سے پہلے اتوار کو وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ کرغزستان کے فساد زدہ شہر اوش اور اس کے گرد و نواح میں ڈھائی سو سے زیادہ پاکستانی پھنسے ہوئے ہیں جن میں تیس سے چالیس طلبا و طالبات کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جاچکا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے بی بی سی اردو سروس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب تک ان کو جو اطلاعات ملی ہیں ان کے مطابق دو سو انہتر پاکستانی فساد زدہ علاقے اور اس کے گردو نواح میں پھنسے ہوئے ہیں اورخیال ہے کہ ان میں زیادہ تر طلبا و طالبات شامل ہیں۔

اس سے پہلے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق تقریباً ایک سو بارہ طلبا و طالبات اوش میں پھنسے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک پاکستانی طالب علم جو وہاں انجنئینرنگ کی تعلیم حاصل کر رہا تھا ان فسادات میں مارا گیا ہے اور دیگر پاکستانی ابھی تک محفوظ ہیں۔

ہلاک ہونے والا طالب علم علی رضا

ہلاک ہونے والا طالب علم علی رضا

ہلاک ہونے والے طالب علم کا نام علی رضا بتایا گیا ہے اور ان کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریب ایک گاؤں سے تھا۔وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ ان اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ کچھ پاکستانی طلبہ کو اوش میں یرغمال بنایا گیا ہے۔

اس سے پہلے شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق کرغزستان میں پاکستانیوں کی تعداد بارہ سو ہے جن میں اکثریت طالب علم ہیں اور گرمیوں کی چھٹیوں وجہ سے ان میں سے بیشتر اپنےگھر واپس آئے ہوئے ہیں۔

کرغزستان میں ایک پاکستانی طالب علم کی ہلاکت کے بعد پاکستان کی حکومت پر کافی دباؤ ہے کہ وہ وہاں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور ان کی فوری واپسی کا بھی انتظام کرے۔

کرغزستان کے جنوبی شہر اوش اور اس کے گرد و نواح میں ازبک اور کرغز آبادی کے درمیان چار دن سے جاری نسلی فسادات میں اب تک لگ بھگ ایک سو افراد ہلاک اور تقریباً ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔