نواز شریف کی بدلتی سیاست

Image caption ججوں کی بھرتی کا اختیار کسی فرد واحد کے پاس نہیں ہونا چاہیے: نواز شریف

پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) لاہور میں احمدیوں پر حملوں کی مذمت نہ کرنے اور اٹھارویں آئینی ترمیم کا سپریم کورٹ میں دفاع نہ کرنے کے حوالے سے کئی روز سے تنقید کی زد میں تھی لیکن میاں نواز شریف نے دونوں معاملات پر کھل کر اپنا موقف پیش کرکے اب ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔

سابق وزیر اعظم کی دونوں معاملات پر پہلے خاموشی اختیار کرنے پر ترقی پسند سوچ رکھنے والے سیاسی، سماجی اور صحافتی حلقوں سے تنقید کا سامنا رہا لیکن جب انہوں نے احمدیوں کو اپنا بھائی اور برابر کا شہری ماننے کا بیان دیا تو اس کے بعد انہیں دائرہ اسلام سے خارج کرنے جیسے فتوؤں اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

آئے روز متحدہ تحریک ختم نبوت اور دیگر مذہبی جماعتوں کے تنقیدی بیانات میں ان پر طرح طرح کے الزام لگائے جاتے رہے ہیں۔ میاں نواز شریف کے بعض مخالفین یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ انہیں احمدیوں سے ہمدردی کا بیان عالمی دباؤ پر دینا پڑا ہے۔

میاں نواز شریف نے اس بارے میں تو ہونے والی تنقید کا جواب نہیں دیا لیکن اٹھارویں آئینی ترمیم جو اتفاق رائے سے پارلیمان نے منظور کی اس کا سپریم کورٹ میں دفاع نہ کرنے کے متعلق ہونے والی تنقید کا کھل کر جواب دیا اور ایک ہی بیان سے اپنے ناقدین کو خاموش کردیا۔

پنجاب حکومت کی جانب سے شاہد حامد نے جب سپریم کورٹ میں اٹھارویں ترمیم کو چیلینج کیے جانے کے خلاف اپنا تحریری جواب دائر کیا تھا اس سے مسلم لیگ (ن) کے موقف کی وضاحت ہوگئی تھی۔ لیکن اس کے باوجود بھی میاں نواز شریف کو کہنا پڑا کہ ’ہم اٹھارویں ترمیم کا سپریم کورٹ میں دفاع کریں گے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ججوں کی بھرتی کا اختیار کسی فرد واحد کے پاس نہیں ہونا چاہیے۔‘

انہوں نے آئین میں ترمیم کے متعلق پارلیمان کے اختیار کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام اداروں کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے اور اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب سپریم کورٹ میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعےججوں کی بھرتی کا وضح کردہ نئےطریقہ کار کو چیلینج کیا گیا ہے اور دوران سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت دیگر جج صاحبان کے جو تبصرے سامنے آچکے ہیں اور ان سے صورتحال کا بخوبی اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔

بعض مبصرین کہتے ہیں کہ میاں صاحب کے ایسے بیان سے بظاہر ایک تو حکومت کا اٹھارویں ترمیم کے دفاع میں اکیلے پن کا احساس ختم ہوگا اور انہیں ایک ٹھوس حمایت ملے گی اور دوسرا یہ کہ دیگر فریقین کو بھی واضح پیغام ملتا ہے کہ اگر پارلیمان کی حدود میں مداخلت ہوئی تو اُسے وہ برداشت نہیں کریں گے۔

لیکن کچھ مبصرین کہتے ہیں کہ احمدیوں سے ہمدردی ہو یا پھر اٹھارویں ترمیم کا دفاع میاں نواز شریف نے سوچ سمجھ کر بیانات دیے ہیں اور ان کے ایسے بیانات سے جو بظاہر ان کے خلاف مذہبی جماعتوں کا ایک نیا محاذ کھلا ہے وہ عارضی ہے اور ’لانگ ٹرم‘ میں ان کے لیے یہ گھاٹے کا سودا نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں