بجٹ: امن و امان کے لیے انچاس ارب مختص

پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال میں عوام کے جان و مال کے تحفظ اور صوبے میں امن وامان کی صورت کو قابو میں رکھنے کے لیے انچاس ارب بیس کروڑ روپے کی رقم مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔

یہ بات پنجاب کے وزیر خزانہ تنویر اشرف کائرہ نے اسمبلی میں صوبے کا سالانہ بجٹ پیش کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ مختص کردہ رقم کی تجویز رواں سال کی نسبت تیرہ فیصد زیادہ ہے۔

اس کے علاوہ صوبے میں جدید ترین موبائل ہسپتال متعارف کرانے کا منصبوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت صوبے بھر میں بائیس موبائل ہسپتال کام کریں گے۔

صوبائی وزیر کے بقول ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جدید موبائل ہسپتالوں کو متعارف کرایا جارہا ہے اور یہ ہسپتال آئندہ برس کے اختتام تک صوبے میں کام شروع کردیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ موبائل ہسپتالوں کے منصوبے کے آغاز کے لیے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں کا ترجیحی بنیادوں پر انتخاب کیا گیا ہے۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ پنجاب کے وزیر خزانے تنویر اشرف کائرہ نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ کا کل تخمینہ پانچ سو تراسی ارب چونسٹھ کروڑ روپے ہے جس میں سے ایک سو ترانوے ارب پچاس کروڑ ترقیاتی منصوبوں کے لیے رکھے گئے ہیں۔ بجٹ میں جنوبی پنجاب کی ترقی کے منصوبوں کے لیے باون ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں۔

صوبائی وزیر کے بقول یہ صوبے کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ترقیاتی بجٹ ہوگا۔

تنویر اشرف کائرہ نے اپنی تقریر میں بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران چار ارب روپے مالیت کی سرکاری املاک کی نجکاری کی گئی ہے جبکہ آئندہ مالی سال میں اس میں بارہ ارب روپے کی آمدنی متوقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں عوام کے جان و مال کے تحفظ اور صوبے میں امن وامان کی صورت کو قابو میں رکھنے کے لیے انچاس ارب بیس کروڑ روپے کی رقم مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو پچھلےسال کی نسبت تیرہ فیصد زیادہ ہے۔

صوبائی وزیر خزانے کے مطابق تعلیم کے شعبہ کے لیے تئیس ارب تیس کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں اور صوبے کے چار شہروں میں نئے میڈیکل کالج قائم کیے جائیں گے۔ ان شہروں میں ڈیرہ غازی خان، ساہیوال، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ شامل ہیں۔

اعلیٰ پوزیشن لینے والے طالب علموں کو سرکاری خرچ پر بیرون ممالک کے تعلیمی دورے کروانے کے لیے اگلے مالی سال کے لیے سولہ کروڑ روپے مختص کیے جارہے ہیں جبکہ اساتذہ کی تربیت اور امتحانی نتائج میں غیر معمولی کارکردگی پر ان کے حوصلہ افزائی کے لیے انعامات کی مد میں آئندہ مالی سال میں دس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انجینئرنگ کی تعلیم کے لیے سرکاری یونیورسٹیوں اور کالجوں میں موجود نشستوں کی تعداد میں تین سو نشستوں کا اضافہ کیا جائے گا۔

بجٹ میں اکیس ارب روپے کی خطیر سبسڈی میں گندم پر تیرہ ارب روپے، سستی روٹی سکیم پر پانچ ارب روپے، رمضان پیکیج پر دو ارب روپے اور پبلک ٹرانسپورٹ پر ایک ارب روپے شامل ہیں۔

صوبائی وزیر خزانہ نے بتایا کہ زرعی اور ویٹریزی گریجوایٹس کو پچیس ایکٹر فی کس کے حساب سے سرکاری زمین پندرہ سال کی لیز پر دی جائے گی اوراس زمین پر ماڈل زرعی فارم بنانے کے لیے نو لاکھ روپے فی زرعی گریجویٹ قرضہ فراہم کیا جائے گا۔ ان کے بقول اس طرح ایک طرف زرعی گریجویٹس میں پائی جانے والی بے روزگاری پر قابو پایا جائے گا اور دوسری طرف صوبے میں تیس ہزار ایکٹر رقبہ کو زیر کاشت کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر خزانے نے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پچاس فیصد اضافے کا اعلان کیا اور کہا کہ ریٹائرڈ ملازمین کی پینش میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کو میڈیکل الاؤنس دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

تنویر اشرف کائرہ نے بتایا کہ آئندہ برس مری میں سیاحوں کے لیے جدید طرز پر چیئر لفٹ سسٹم قائم کیا جارہا ہے۔

صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ وفاق سے صوبوں کو منتقل ہونے والے کیپٹل ویلیو ٹیکس کی شرح میں پچاس فیصد کمی کی جارہی ہے اور صوبائی حکومت یہ ٹیکس چار فیصد کی بجائے دو فیصد شرح سے وصول کرے گی۔

بجٹ میں صحت کے شبعہ کے لیے تینتالیس ارب اسی کروڑ روپے مختص کیا جارہے ہیں۔

اسی بارے میں