ثبوتوں کی کمی، بریت کی وجہ

راولپنڈی اور اسلام آباد میں گُزشتہ اڑھائی سال کے دوران شدت پسندی کے سات اہم واقعات میں گرفتار ہونے والے افراد تفتیش کرنے والے اداروں کی جانب سے ٹھوس شواہد پیش نہ ہونے کی بنا پر ان مقدمات میں بری ہوگئے ہیں۔

فائل فوٹو، باڑہ میں گرفتاری

ان مقدمات میں میرئیٹ ہوٹل کے مرکزی دوروازے پر بارود سے بھرے ہوئے ٹرک سے ہونے والا حملہ، اسی ہوٹل کی کار پاکنگ میں ہونے والے بم دھماکے، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معزولی کے دوران اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ مرکز میں اُن کے استقبالیہ کمیپ پر ہونے والے خوکش حملے۔

اس کے علاوہ آبپارہ مارکیٹ میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر ہونے والے خودکش حملے، راولپنڈی میں فوج کے جنرل ہیڈ کوراٹر کے قریب انٹر سروسز انٹیلیجنس ( آئی ایس آئی) کی بس پر ہونے والے خودکش حملے اور پاکستانی فوج کے سرجن جنرل لیفٹیننٹ جنرل مشتاق بیگ پر ہونے والا خودکش حملہ اور کامرہ میں پاکستانی فضائیہ کی بس پر ہونے والہ خودکش حملہ شامل ہیں۔

ان واقعات میں ڈیڑھ سو کے قریب افراد ہلاک اور تین سو سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے ان واقعات میں ہلاک ہونے میں اکثریت کا تعلق فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ہے جبکہ ان دھماکوں تیس سے زائد افراد زندگی بھر کے لیے اپاہج ہوچکے ہیں۔

Image caption میرئیٹ ہوٹل سمیت شدت پسندی کے ان واقعات میں ڈیڑھ سو کے قریب افراد ہلاک اور تین سو سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے

بری ہونے والوں میں ڈاکٹر عبدالرزاق، محمد الیاس، محمد سرفراز، محمد نعیم، اسامہ بن وحید، محمد رضوان، محمد ندیم دلشان خلیل ڈاکٹر محمد عثمان، امیر افضل، رانا الیاس اور تحسین اللہ جان شامل ہیں۔

میرئیٹ ہوٹل حملہ کیس میں دوافراد کو اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔ ان حملوں میں گرفتار ہونے والے ڈاکٹر عبدالرزاق پاکستان ریلوے کے ہسپتال میں ڈاکٹر تھے۔

وفاقی حکومت کی طرف سے میرئیٹ ہوٹل پر حملے کے مقدمے میں رہا ہونے والے ملزمان کی دس روز کے لیے اُن کی نظر بندی کے احکامات جاری کردیئے، بعدازاں لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے حکم پر ان افراد کی نظر بندی کے احکامات ختم کردیئے گئے۔

ان مقدمات کی تحقیقات کے لیے وفاقی حکومت کی طرف سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئیں جن میں پولیس اہلکاروں کے علاوہ ، آئی ایس آئی، انٹیلیجنس بیورو اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اہلکار بھی شامل ہوتے ہیں۔

ان تفتیشی ٹیموں میں شامل پولیس اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ان مقدمات کی تفتیش میں زیادہ تر کردار خفیہ ایجنسیوں کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو حملے فوج کے اہلکاروں پر ہوئے ہیں اُن مقدمات کی تفتیش میں پولیس اور ایف آئی اے کا کردار ثانوی رہا ہے۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ان مقدمات کی تفتیش میں شامل پولیس اہلکاروں کو صرف یہ ہدایات دی جاتی تھیں کہ فلاں بندے سے پوچھ گچھ کرلو اور فلاں بندے کو حراست میں لے لو اس کے علاوہ پولیس کو اہم معاملات میں شامل نہیں کیا جاتا۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ جب ان مقدمات میں زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تو اس کے بعد تمام تر توجہ مذہبی تنظیموں کی طرف مرکوز کر دی جاتی ہے۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ان مقدمات میں زیادہ تر اُن افراد کو حراست میں لیا گیا جن کا کسی دور میں مذہبی تنظیموں سے تعلق رہا ہو یا پھر وہ مذہبی جذبات رکھتے ہوں۔

پولیس افسر کے بقول ان افراد سے تھانوں میں تفتیش نہیں ہوتی تھی بلکہ ان کو دیگر مقامات پر رکھا جاتا تھا جہاں پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان اُن سے پوچھ گچھ کرتے تھے۔

شدت پسندی کے واقعات کی تحقیقات کرنے والی ٹیم میں شامل ایف آئی اے کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ جائے حادثہ سے جو شواہد اکھٹے کیے جاتے ہیں اُن کے لیبارٹری سے ٹیسٹ کروانے کے بعد وہ مقدمات کی تفتیش میں بیس سے تیس فیصد تک کارآمد ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہم مقدمات کی تفتیش میں زیادہ تر کام تفتیش کاروں کو خودکرنا پڑتا ہے۔

ایف آئی اے کے اہلکار کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات میں گرفتار ہونے والے ملزموں کو مُجرم قرار دلوانا کافی مشکل کام ہے۔

دہشت گردی کے ان مقدمات میں رہا ہونے والے محمد نعیم کے وکیل الیاس صدیقی کا کہنا ہے کہ پولیس نے اُن کے موکل کو شک کی بنا پر گرفتار کیا اور اُن کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کرلیے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈیڑہ سال سے زائد عرصہ اُن کا موکل جیل میں رہا اور استغاثہ کی جانب سے اُن کے موکل سمیت ان مقدمات میں گرفتار ہونے والے افراد کے خلاف شواہد اکھٹے کرنے کے لیے ان مقدمات کی سماعت میں مہلت مانگتے رہے لیکن ڈیڑھ سال تک کوئی بھی ثبوت اُن کے موکل اور دیگر افراد کے خلاف پیش نہیں کیے جاسکے جس کی بنا پر عدالت نے اُنہیں عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا۔

الیاس صدیقی کا کہنا تھا کہ یہی صورت حال دیگر افراد کے ساتھ بھی تھی جنہیں پولیس نے ان مقدمات میں گرفتار کیا تھا۔

آئی ایس آئی کی بس اور پاکستانی فوج کے سرجن جنرل پر ہونے والے خودکش حملوں کے مقدمات کی پیروی بہتر انداز میں نہ کرنے کی بنا پر ان مقدمات میں حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے پبلک پراسیکیوٹر صفدر جاوید ملک کو معطل کر کے اُس کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا۔

ان مقدمات میں گرفتار ہونے والے افراد کے بارے میں ریجنل پولیس افسر راولپنڈی راؤ اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کے سرجن جنرل پر حملہ کرنے والے گروہ کے ارکان اسلام آباد میں ڈنمارک سفارت خانے کے باہر ہونے والے خودکش حملے اور لاہور میں نیول وار کالج کے باہر ہونے والے خودکش حملوں میں بھی ملوث تھے۔ مزکورہ پولیس افیسر کے مطابق ان افراد کا تعلق کینیا کے ایک شدت پسند گروپ سے ہے جس کا سرغنہ پہلے ہی ہلاک ہو چکا ہے۔

سنہ دوہزار نو میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نےراولپنڈی میں سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے طیارے کو نشانہ بنانے کے الزام میں گرفتار ہونے والے دو افراد ڈاکٹر نیاز اور مظہرالحق کو عدم ثبوت کی بنا پر گُزشتہ برس اس مقدمے سے بری کردیا گیا تھا۔

پنجاب پولیس کے سابق افسر چوہدری سلمان احمد کا کہنا ہے کہ خودکش حملوں اور بم دھماکوں کے مقدمات میں گرفتار ہونے والے افراد کو مُجرم قرار دلوانے کے لیے شواہد اکھٹے کر کے عدالت میں پیش کرنا استغاثہ کی ذمہ داری ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض مقدمات میں ملزمان دوران تفتیش پولیس کے تشدد سے بچنے کے لیے مجسٹریٹ کے سامنے اقبالی بیان دے دیتے ہیں لیکن جب ان مقدمات کی سماعت عدالت میں ہوتی ہے تو پھر وہ یہ کہہ کر ان بیانات سے منحرف ہوجاتے ہیں کہ انہوں نے یہ بیان پولیس کے تشدد سے بچنے کے لیے دیا تھا۔

سندھ پولیس کے سابق سربراہ افضل شگری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے قانون اور ان مقدمات کی سماعت کا از سرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے قانون میں اتنی وسعت ہے کہ حکومت کے خلاف تقریر کرنے والے کے خلاف بھی انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت دفعات لگا دی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں انسداد دہشت گردی کے قانون کا جائزہ لیکر اس میں ترمیم کی گئیں ہیں جبکہ پاکستان میں ابھی تک کسی ملزم کا پولیس کو دیا جانے والہ بیان عدالتوں میں قابل سماعت ہی نہیں ہے۔

افضل شگری کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کرنے والے جج صاحبان کو مکمل تحفظ دینے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی شدت پسند اُنہیں مقدمات کی سماعت کے دوران کوئی دھمکی نہ دے سکے۔

اسلام آباد پولیس کے شعبہ پراسیکیوشن کے انچارج جاوید خٹک کا کہنا ہے کہ اسلام آباد سے متعلقہ مقدمات کے حوالے سے عدالتی فیصلوں کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کرنے کا فیصلہ پولیس کے اعلیٰ حکام کریں گے تاہم انہوں نے کہا کہ ان مقدمات میں رہا ہونے والے افراد کی نقل و حرکت پر پولیس اور دیگر ادارے نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں