کراچی میں ’فرقہ وارانہ‘ تشدد، نو ہلاک

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں رواں ماہ کے پہلے چودہ روز میں مبینہ فرقہ وارانہ کشیدگی میں نو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

Image caption تمام ایس ایچ اوز کو پابند بنایا جائے گا کہ وہ اپنے اپنے علاقے میں مذہبی علماء اور شخیصات سے ملاقات کریں اور ان کی معلومات رکھیں: رحمان ملک

کراچی کے حالات کے پیش نظر سندھ حکومت میں جلسوں اور جلوسوں پر پابندی عائد کردی ہے، وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں یہ کہا گیا ہے کہ امن امان کے قیام عوام کے جان و مال کی سلامتی کے پیش نظر اجتماعات، جلسوں اور جلوسوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس حکم پر فوری عمل کیا جائیگا۔

وزارت داخلہ کے مطابق نماز جنازہ اور تدفین کے اجتماعات اس سے مستثنیٰ ہوں گے، پولیس کو اس پابندی پر سختی سے عمل درآمد کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل اسلحہ لیکر چلنے اور موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پہلے ہی پابندی عائد کی گئی ہے۔ مگر تمام ہلاکتوں میں حملہ آور موٹر سائیکل پر ہی سوار تھے۔

اتوار اور پیر کی درمیانی شب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ میں کالعدم سپاہ صحابہ اور موجودہ اہلسنت و جماعت کے کارکن ابراہیم ہلاک ہوگئے۔

پولیس کے مطابق ابراہیم پرگلستان جوہر کے علاقے موسمیات چوک کے قریب حملہ کیا گیا۔

دریں اثنا منگل کو سینیٹ کے اجلاس میں حکومت کو کراچی میں ہلاکتوں پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

پیر کی صبح اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے مترجم اور مصنف ایوب نقوی ہلاک ہوگئے تھے۔

ناظم آباد پولیس کے مطابق پیر کی دوپہر کو اڑسٹھ سالہ ایوب نقوی اپنی دکان کی جانب جا رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار افراد نے ان پر فائرنگ کی جس میں وہ ہلاک ہوگئے۔ ان کے سر میں دو گولیاں لگیں۔

ایوب نقوی ناظم آباد کی مسجد نور ایمان میں مذہبی کتابوں کی دکان کے مالک تھے۔ پولیس نے واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیا ہے۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ملک کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی مرکز میں گزشتہ ماہ نسلی بنیادوں پر تیس سے زائد ہلاکتیں ہوئیں مگر رواں ماہ مبینہ فرقہ وارانہ ہلاکتوں نے ان کی جگہ لے لی ہے۔

یکم جون سے چودہ جون تک نو افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں سے چھ کا تعلق اہل تشیع سے ہے جبکہ کالعدم سپاہ صحابہ اور سنی تحریک کا بھی ایک ایک کارکن ہلاک شدگان میں شامل ہے۔

ان واقعات کے بعد ناظم آباد، رضویہ، انچولی اور گودھرا کے علاقوں میں گزشتہ ایک ہفتے سے کشیدگی پائی جاتی ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ ان واقعات کے حقائق جاننے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی جائے گی جس میں تمام مکا تب فکر کے علما شامل ہوں گے، جبکہ ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ اس کے سربراہ ہوں گے۔

کراچی میں پیر کو امن امان کے بارے میں اجلاس کے بعد رحمان ملک نے واقعات کو ایک مرتبہ پھر سازش قرار دیا۔ ان کے مطابق ان واقعات میں ملوث قوتوں نے پہلے نسلی فسادات کی کوشش کی اس میں ناکامی کے بعد فرقہ وارانہ فسادات کرانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے چار ماہ پہلے بریلوی اور دیوبند مسالک میں لڑائی کی کوشش کی گئی جسے ناکام بنایا گیا۔

تمام مذہبی علما اور شخصیات اور کارکنوں کا ریکارڈ بھی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق تمام ایس ایچ اوز کو پابند بنایا جائے گا کہ وہ اپنے اپنے علاقے میں مذہبی علماء اور شخیصات سے ملاقات کریں اور ان کی معلومات رکھیں۔

رحمان ملک نے اعلان کیا کہ کالعدم تنظیموں کو کسی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی وہ جلوس نہیں نکال سکیں گی۔

یاد رہے کہ کالعدم سپاہ صحابہ نے نشتر پارک میں جلسے کا اعلان کیا تھا۔ نشتر پارک کے آس پاس شیعہ مسلک کے لوگوں کی بڑی آْبادی ہے اور قریب ہی شہر کی سب سے بڑی امام بارگاہ بھی واقع ہے۔

جلسے کے اعلان کے بعد شہر میں کشیدگی پائی جاتی تھی۔ حکومت کی مداخلت کی اور مذاکرات کے بعد سپاہ صحابہ کی جانب سے ناظم آباد میں جلسہ منعقد کیا گیا تھا۔

صوبائی وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا کہنا ہے کہ ایک کالعدم تنظیم کو جلسے کی اجازت نہیں دی تو انہیں دھمکیاں دی گئیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ افراد کو عدالتوں سے ضمانتیں مل جاتی ہیں تاہم جیلوں سے رہا ہونے والے کالعدم تنظیموں اور جرائم پیشہ عناصر کا ریکارڈ جمع کیا جارہا ہے، جس کی روشنی میں بھی کارروائی کی جائے گی۔

ادھر اسلام آباد سے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق منگل کو پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ میں وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں حالات حکومت کے قابو میں ہیں اور حکومت فرقہ وارانہ فسادات روکنے کے لیے علماء سے رابطے کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی میں حالات خراب کرنے میں لینڈ مافیا کا بھی ہاتھ ہے جبکہ کچھ قوتوں نے بدامنی پیدا کرنے کے لیے پیسے بھی تقسیم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کراچی میں کچھ لوگ گرفتار کیے ہیں اور علماء کی مدد سے فرقہ وارانہ فسادات روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔

قبل ازیں ایوان میں حکومتی اتحاد کے سینیٹرز میاں رضا ربانی، ڈاکٹر صفدر عباسی اور زاہد خان کے علاوہ حزب مخالف کے سلیم سیف اللہ، پروفیسر خورشید، غفور حیدری اور دیگر نے کراچی میں بقول ان کے ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ ورانہ فسادات روکنے میں ناکامی پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں قتل عام میں ملوث لوگوں کی حکومت نشاندہی کرنے کو تیار نہیں اور جب بھی صدر آصف علی زرداری متحدہ والوں سے ملتے ہیں تو حالات چند روز بہتر ہوتے ہیں اور پھر گڑ بڑ شروع ہوجاتی ہے۔