’آئی ایس آئی مدد نہیں کر رہی‘

طالبان(فائل فوٹو)

افغانستان میں سرگرم طالبان نے بھی برطانوی تعلیمی ادارے لندن سکول آف اکنامکس کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نہ صرف طالبان کو وسائل، تربیت اور پناگاہیں فراہم کرتی ہے بلکہ اس کے اہلکار طالبان شورٰی کے اجلاسوں میں بھی شریک ہوتے ہیں۔

بی بی سی پشتو سروس کے نامہ نگار طاہر خان کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے بھیجےگئے ای میل پیغام میں کہا گیا ہے کہ یہ رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں اور یہ مغرب کے سیاسی رہنماؤں کا سٹیج کردہ ایک ڈرامہ ہے۔

طالبان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی جب افغانستان میں طالبان کے حملوں کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہے ہیں تو انہوں نے اپنے تعلیمی اداروں کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

پیغام میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی مزاحمتی تحریک افغانستان کے اندر سے اٹھی ہے اور اسے افغانستان سے باہر کسی شورٰی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

طالبان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں پاکستان سمیت کسی غیر ملکی قوت کی حمایت درکار نہیں اور اگر پاکستان طالبان کی حمایت کر رہا ہوتا تو افغانستان میں صورتحال آج کی صورتحال سے کہیں مختلف ہوتی۔

خیال رہے کہ لندن سکول آف اکنامکس کی جانب سے سنیچر کی رات جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے طالبان سے رابطے اب تک کے اندازوں سے کہیں زیادہ گہرے ہیں اورطالبان کی حمایت آئی ایس آئی کی ’سرکاری پالیسی‘ ہے۔

پاکستانی فوج نے اس رپورٹ کو بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ الزامات ملک کی سکیورٹی ایجنسیوں اور فوج کو بدنام کرنے کی ایک کوشش ہے۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جو ممالک، ادارے یا خفیہ ایجنسیاں ہماری دوست اور خیر خواہ نہیں ہیں وہ ماضی میں بھی اس طرح کے شوشے چھوڑتے رہی ہیں اور ہم ان اس طرح کے الزامات کو ماضی میں بھی مسترد کرتے رہے ہیں‘۔

اسی بارے میں