جماعت الدعوۃ کی فنڈنگ کا تنازع

پنجاب حکومت نے جماعت الدعوۃ اور اس کی ذیلی اداروں کو ایک سال کے دوران سوا آٹھ کروڑ روپے دیے ہیں جب کہ اگلے مالی سال کے لیے بھی لگ بھگ اتنی ہی رقم مختص کی گئی ہے۔

حافظ سعید
Image caption جماعت الدعوۃ کے سربراہ جن کی نظر بندی اور رہائی کس سلسلہ چلتا رہتا ہے۔

اس بات کا انکشاف پنجاب بجٹ کی ضمنی گرانٹ کے طور پر جاری ہونے والی دستاویز میں کیا گیا ہے۔

یہ رقم پنجاب حکومت کے ان اخراجات میں شامل ہے جو گذشتہ برس کے منظورشدہ بجٹ سے ہٹ کر کیے گئے اور اس سال انہیں ضمنی گرانٹ کے طور پر منظور کرانے کے لیے پنجاب اسمبلی میں پیش کیا گیا۔

اس اضافی اخرجات کی دستاویز کے مطابق حکومت نے مرکز طیبہ مریدکے کی چھ تنظیموں کو پونے آٹھ کروڑ روپے ادا کیے جبکہ مختلف اضلاع میں جماعت الدعوۃ کےسکولوں پر تیس لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔

وزیرقانون نے بتایا کہ تقریباً اتنی ہی رقم آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی رکھی گئی ہے۔

پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان کا کہنا ہے کہ جماعت الدعوۃ کے ادارے کیونکہ حکومت پنجاب اپنی تحویل میں لے چکی ہے اس لیے ان کے پراخراجات بھی حکومت کو ہی کرنا ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے کمیٹی میں روم میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرقانون رانا ثناءاللہ خان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی پابندی کے بعد سے جماعت الدعوۃ کے ہپستال سکول کالج اوردیگر فلاحی ادارے اب حکومت پنجاب چلا رہی ہے جس کے لیے رقم کی ضرورت ہے

اسی لیے رقم بجٹ میں رکھی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ممبئی حملو ں کے بعد جب اقوام متحدہ نے جماعت الدعوۃ پر پابندی لگائی اور اس کے اکاونٹس منجمند کیے گئے اور اس کے ادارے حکومت نے تحویل میں لے لیے تو اس وقت پنجاب حکومت کے پاس ایک راستہ تو یہ تھا کہ اس کے زیر انتظام چلنے والے سکول کالج ہسپتال وغیرہ بند کردیے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورت میں ان افراد کا نقصان ہوتا جو ان سہولتوں سے محروم ہوجاتے۔اس کی بجائے پنجاب حکومت نے ان اداروں کو چلانے کی تجویز دی۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی یہ رائے وفاقی حکومت اور اقوام متحدہ کے سامنے رکھی گئی اور اتفاق رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ ان اداروں کو بند نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں جماعت الدعوۃ کے بیشر سکول بدستور چل رہے ہیں وہاں حکومت پاکستان کا منظور کردہ نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا وہ سکول بند کردیے گئے جہاں طلبہ طالبات کی تعداد کم تھی البتہ ان طلبہ طالبات کو دوسرے سکولوں میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ وزیر قانون نے کہا کہ ان اداروں کا نام تو وہی پرانا ہے لیکن ان کا اب کسی کالعدم جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

لاہور سے ہمارے نامہ نگار علی سلمان نے بتایا کہ جماعت الدعوۃ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم نہ تو کالعدم ہے اور ہی ماضی میں کبھی انہوں نے حکومت سے کوئی فنڈ لیاہے۔

جب یہ پوچھا گیا کہ اگر جماعت الدعوۃ کالعدم تنظیم نہیں ہے تو پھر حکومت پنجاب ان کے اداروں کو چلانے کے لیے رقم کیوں خرچ کر رہی ہے، تو صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے جواب دیا کہ یہ ادارے اب سرکاری تحویل میں لے لیے گئے ہیں اور اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کسی ادارے کو نیشنلائز کرلیا جائے۔ انہوں نے کہ سیکرٹری کی سطح کے ایک افسر کو ان اداروں کا ایڈمنسٹریٹر مقررکیا گیا ہے اسی طرح ہر ضلعی میں ایک سرکاری افسر کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کرکے ان اداروں کو چلایا جا رہا ہے۔

جماعت الدعوۃ کے ترجمان یحییٰ مجاہد نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے فلاحی اداروں پر حکومت کی نگرانی ضرور ہے لیکن انہیں جماعت الدعوۃ ہی چلا رہی ہے اور انہی کے لوگ ان اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ان کے اداروں پر جو نگرانی کررہی ہے اسے وہ عدالت میں چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں