مفلسی سے تنگ، زہریلی گولیاں کھا لیں

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں غربت سے تنگ آ کر ماں باپ نے اپنے بچوں کو زہریلی گولیاں کھلا کر خود بھی زہر کھا لیا جس سے دو بچیاں اور باپ ہلاک ہوگئے جبکہ ماں اور ایک بچی کو بچا لیا گیا ہے۔

یہ واقعہ لاہور کے نواحی علاقے چوہنگ میں ہوا جہاں ایک رکشہ ڈرائیور اکبر علی اور ان کی بیوی مزمل بی بی نے تنگدستی کی وجہ سے خودکشی کی کوشش کی۔ انہوں نے پہلے اپنی تین بیٹیوں کو زہریلی گولیاں کھلائیں اور بعد میں خود بھی زہریلی گولیوں کھالیا۔

زہریلی گولیاں کھانے سے تمام افراد کی حالت بگڑگئی اور انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم اکبر اور ان کی ایک بیٹی راستے ہی میں ہلاک ہوگئے اور ایک بیٹی ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گئیں۔ تام ان کی بیوی اور ایک بیٹی کو بچالیا گیا جو اس وقت ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج ہیں۔

مرنے والوں میں چھ سالہ ایمن اور بارہ سالہ نادیہ شامل ہیں جبکہ ان کی پندرہ سالہ بہن بینش ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

اکبر علی کرائے کے مکان میں رہتے تھے اور رکشہ چلاتے تھے۔ اکبر کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ وہ اکثر اپنی مالی حالات کی وجہ سے پریشان رہتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اکبر علی کا ایک کم سن بیٹا اور بیٹی اپنی ایک عزیزہ کے گھر میں ہونے کی وجہ سے بچ گئے۔

خودکشی کی کوشش کرنے والی مزمل بی بی نے ہسپتال میں میڈیا کو بتایا کہ ان کے کہنے پر بچیوں کو زہریلی گولیاں کھلائیں اور بعد میں دونوں میاں بیوی نےبھی گولیاں کھالیں۔ مزمل بی بی کے بقول انہوں نے اپنے حالات کی وجہ سے ایسا کیا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ہسپتال جاکر مزمل بی بی اور ان کی بیٹی کی عیادت کی اور دس لاکھ مالی امداد اور بچوں کی مفت تعلیم کا اعلان کیا۔ تاہم وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ گھویلو جھگڑے کا نتیجہ تھا۔

رات گئے اکبر اور اس کی دونوں بچیوں کی نمازہ جنازہ ادا کردی گئیں۔

اسی بارے میں