ساجدہ میر: استعفے سے انکار

پاکستان میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی پنجاب میں رکن صوبائی اسمبلی ساجدہ میر نے کہا ہے کہ پارٹی کی مرکزی قیادت نے ان سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا جو انہوں نے مسترد کر دیا۔

پنجاب اسمبلی(فائل فوٹو)

بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے ساجدہ میر نے بتایا کہ بدھ کی شب پاکستان پیپلز پارٹی کی خواتین ونگ کی سربراہ فریال تالپور نے ایوانِ صدر اسلام آباد میں پنجاب کی اراکینِ اسمبلی کا اجلاس بلایا۔ ان کے بقول جب وہ اجلاس کے لیے پہنچیں تو وہاں پر تقریباً پندرہ اراکینِ صوبائی اسمبلی پہلے سے موجود تھیں۔

ساجدہ میر نے کہا کہ ’وہاں دوسری اراکینِ اسمبلی موجود تھیں جنہیں اسٹامپ پیپر دیے گئے تھے۔ مجھے بھی اسٹامپ پیپر دیا گیا اور پوچھا گیا کہ اگر میرے پاس شناختی کارڈ ہے۔ میرا شناختی کارڈ گاڑی میں تھا جسے لینے کا کہہ کر میں اجلاس سے واپس آ گئی۔‘

انہوں نے بتایا کہ اسٹامپ پیپر پر تحریر تھا کہ ’میں اپنی رکنیت کے اختیارات پارٹی کے شریک سربراہ آصف علی زرداری کو دیتی ہوں اور وہ جب چاہیں سپیکر کو میرا استعفیٰ دے سکتے ہیں۔‘

ساجدہ میر پارٹی کی متحرک کارکن ہیں ور خصوصی نشست پر پنجاب اسمبلی کی رکن بنیں۔ انہوں نے کہا کہ تین روز قبل پنجاب اسمبلی میں پارٹی کے ایک اجلاس کے دوران ان کا اپنی ساتھی رکن اسمبلی فوزیہ بہرام سے جھگڑا ہوا تھا۔ وہ چاہتی تھیں کہ فوزیہ بہرام ان کے خلاف غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کرنے پر معافی مانگیں۔

انہوں نے کہا کہ جمعرات کو جب انہیں ایوانِ صدر بلایا گیا تو انہیں یہی توقع تھی کہ پارٹی کی قیادت ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ازالہ کرے گی اور فوزیہ بہرام سے معافی کے لیے لیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں استعفے کی تحریر پر دستخط کا مطالبہ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر راجہ ریاض نے کیا تھا۔ بی بی سی نے راجہ ریاض سے رابطے کی کوشش کی مگر ان کا ٹیلی فون بند تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماء اور وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے نجی ٹی وی چینلوں کو انٹرویو دیتے ہوئے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ پارٹی کی مرکزی قیادت نے صوبہ پنجاب کی اراکینِ اسمبلی سے استعفے جمع کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عموماً منتخب اراکین کے استعفے پارٹی قائد کے پاس پہلے سے موجود ہوتے ہیں اور یہ معاملہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔

رکن پنجاب اسمبلی ساجدہ میر نے استعفے کے مطالبے کو طبقاتی تفریق قرار دیا اور کہا کہ جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے پارٹی میں اندرونی جمہوریت ہونا لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر میں کسی ٹوانے یا دولتانے کی بیٹی ہوتی یا میں (لاہور کے) لنڈے بازار میں نہ رہتی ہوتی تو شاید میرے ساتھ یہ سلوک نہ ہوتا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ باقی تمام اراکینِ صوبائی اسمبلی کو بھی تو آپ نے سٹامپ پیپر تھامے ہوئے دیکھا تو آپ کو استعفیٰ جمع کرانے پر کیا اعتراض ہے تو ان کا جواب تھا کہ ’وہ عورتیں اس لیے نہیں بولیں کیونکہ ان کی مجبوریاں ہیں۔ کسی کے والد کو پراسیکیوٹر جنرل لگایا گیا ہے، کسی کو فلیٹ ملا ہوا ہے، کسی کے شوہر کو سرکاری عہدہ ملا ہوا ہے تو کوئی پارلیمانی سیکرٹری ہے۔ اس لیے ان عورتوں نے یہ نہیں پوچھا کہ ان سے استعفیٰ کیوں لکھوایا جا رہا ہے۔‘

ساجدہ میر نے کہا کہ انہوں نے بائیس سال پارٹی کے لیے کارکن کی حیثیت سے محنت کی اور قربانیاں دیں۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی کی اکثریت ان جیسے غریب کارکنوں پر مشتمل ہے اور ایلیٹ (امیر) طبقہ بہت کم ہے لیکن بدقسمتی سے اونچے عہدوں پر ایلیٹ طبقے کے لوگ ہی بیٹھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی غریب پارلیمان میں پہنچ جاتا ہے تو اسے دبا کر رکھا جاتا ہے۔ ساجدہ میر کے بقول ’اگر پیشگی استعفے رکھنا پارٹی کی کوئی نئی حکمتِ عملی تھی تو پہلے اراکینِ اسمبلی کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا۔‘

پاکستان میں انتخابی اور جمہوری عمل پر نظر رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم فیفن کے سربراہ مدثر رضوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں اراکینِ اسمبلی سے پیشگی استعفے لینے کی روایت کو قانونی لحاظ سے چیلنج نہیں کیا جا سکتا تاہم یہ اخلاقی اور جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ استعفیٰ پارٹی قائد کے پاس موجود ہونے کی صورت میں رکن اسمبلی آزادانہ رائے رکھنے سے محروم ہو جاتا ہے۔ مدثر رضوی کے بقول ’اراکینِ اسمبلی کے سر پر استعفے کی تلوار لٹکی رہتی ہے کہ اگر وہ پارٹی لائن سے ہٹ گئے تو ان کے استعفے سپیکر کو بھجوا دیئے جائیں گے۔‘

اسی بارے میں