سسرال میں قید: برطانوی خاتون بازیاب

کشمیر
Image caption برطانوی خاتون کشمیری نژاد ہیں اور ان کی شادی خاندان میں ہی ہوئی تھی

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس نے کہا ہے کہ اس نے کشمیری نژاد برطانوی خاتون اور ان کے چار بچوں کو سسرال والوں کی تحویل سے بازیاب کرا لیا ہے جنہیں بقول ان کے چھ مہینوں سے زیادہ عرصے سے سسرال میں ان کی مرضی کے خلاف رکھا گیا تھا۔

پولیس نے برطانوی خاتون کو حبس بے جاہ میں رکھنے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر میرپور میں ایک مقامی تھانے کے انچارج خواجہ عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ ان کی سربراہی میں جب پولیس ٹیم برطانوی خاتون فرزانہ احمد کو بازیاب کرانے کے لیے ان کے سسرال پہنچی تو ان کے سسرال والوں نے کہا کہ ان کی بہو گھر میں موجود نہیں ہے۔

انہوں نےبتایا کہ تلاشی کے دوران پولیس نے خاتون کو ایک کمرے میں پایا اور ان کے تین بچے سکول گئے ہوئے تھے جبکہ انکی دو سالہ بچی گھر میں تھی۔ پولیس کے ہمراہ فزانہ احمد کی والدہ بھی تھیں۔

پولیس افسر کا کہنا ہے کہ انہوں نے خاتون اور ان کے چاروں بچوں کو بازیاب کرایا اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسڑیٹ کی عدالت میں پیش کیا جنھوں نے خاتون کو ان کی مرضی کے مطابق ان کی والدہ کے سپرد کرنے کا حکم دیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے برطانوی خاتون کے تین دیوروں کے خلاف حبس بے جاہ کا مقدمہ درج کیا ہے اور ان میں سے دو ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ ایک مفرور ہے۔

اپنی بازیابی کے بعد بیالیس سالہ فرزانہ احمد نے ٹیلیفون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پچھلے سال 21 نومبر کو ان کے شوہر نے ان کو یہ کہہ کر میرپور بھیجھا تھا کہ وہ بھی دو ماہ میں آجائیں گے لیکن وہ نہیں آئے۔

انہوں نے کہا ’یہاں پہنچنے کے بعد ایک مہینے تک میرے سسرال والے میرے ساتھ ٹھیک رہے لیکن اس کے بعد وہ تبدیل ہوگئے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’وہ مجھے مار پیٹ اور گالم گلوچ کرتے اور دھمکیاں دیتے اور مجھے ٹھیک سے کھانا بھی نہیں دیتے اور پانی میں نیند کی دوائی ملا کر پلاتے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میرے بچوں کو بھی مجھ سے دور رکھا جاتا تھا اور ان کو مجھ سے بات کرنے یا ملنے نہیں دیتے‘۔

فرزانہ نے کہا کہ سسرال والوں نے دھوکے سے ان کے کاغذات اور پاسپورٹ بھی لے لیے اور بعد میں واپس دینے سے انکار کردیا۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے اپنے والدین، بہن بھائیوں اور دیگر عزیزوں سے ٹیلیفون پر بات نہیں کرنے دیتے اور نہ ہی کسی رشتہ دار یا گاؤں والے سے ملنے جلنے کی اجازت تھی‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر ان کے گھر کوئی آتا تو ان کو چھپا دیا جاتا اور لوگوں کو کہتے کہ میں پاگل ہوں‘۔

برطانوی خاتون نے کہا کہ ’پچھلے سال میرے والد میرپور آئے تو ایک حادثے میں ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی تو میں نے سسرال والوں سے کہا کہ مجھے ان کے پاس لے چلو لیکن انہوں نے یہ کہہ کر اجازت نہیں دی کہ میرے والد مجھ سے نہیں ملنا چاہتے ہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میرے والد واپس برطانیہ چلے گئے اور اس سال آٹھ جنوری کو وہ انتقال کرگئے لیکن میرے سسرال والوں نے مجھے اپنی والدہ اور بھائی بہنوں سے ٹیلفون پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی اور نہ ہی مجھے برطانیہ جانے دیا‘۔

فرزانہ کا کہنا ہےکہ سسرال والوں نے کہا کہ وہ اس شرط پر برطانیہ جاسکتی ہیں کہ بچے ان کے ساتھ نہیں جائیں گے اور وہ پھر واپس بھی نہیں آسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ بچوں کی وجہ سے برطانیہ نہیں گئیں۔

برطانوی خاتون نے یہ بھی کہا کہ اگر ان کے سسرال والے گھر سے باہر جاتے تو ایک بیٹے کو ان کے پہرے کے لیے گھر میں رکھتے تا کہ وہ کسی سے مل نہ سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میرے بیٹے نے ایک گاؤں والے کے ذریعے خط میرے بھائی کو بھیجھا جس کے نتیجے میں میری بازیابی ممکن ہوئی۔‘

انہوں نے کہا کہ جمعہ کے روز ’جب پولیس کے ہمراہ میری والدہ سسرال والوں کے گھر پہنچی تو میرے ایک دیور گھر پر موجود تھے اور انہوں نے پولیس کو آتے دیکھ لیا تھا۔‘

چار بچوں کی والدہ کا کہنا ہے کہ’ پولیس کے گھر پہنچنے سے پہلے میرے دیور نے مجھے ایک کمرے میں بند کردیا اور دروازے کو تالا لگا دیا تھا اور مجھے دھمکی دی کہ اگر میں نے کوئی بات کی تو وہ میرے بچوں کو مار دیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اس دھمکی کے پیش نظر میں خاموش رہی لیکن اسی دوران میری امی مجھے تلاش کرتے میرے کمرے تک پہنچ گئی اور انہوں نے پولیس کو بتایا کہ میری بیٹی مل گئی‘۔

انہوں نےبتایا ’انہوں نے مجھے اور میری بیٹی کو ساتھ لیا اور وہاں سے ہم سیدھا سکول گئے اور وہاں موجود تین بچوں کو بھی ساتھ لایا‘۔

مرپور میں پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے برطانوی خاتون کے سسرال والوں سے ان کا ضبط شدہ پاسپورٹ بھی حاصل کرلیا ہے اور وہ جلد ہی اس کو خاتون کے حوالے کردیں گے۔

فرزانہ کا کہنا ہے کہ ان کو پیر کے روز پاسپورٹ مل جائےگا جس کے فوراً بعد وہ برطانیہ روانہ ہوجائیں گی کیونکہ ان کے سسرال والوں نے ان کو سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے اور وہ یہاں محفوظ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ برطانیہ میں اپنے والدہ کے ساتھ رہیں گی۔

بیالس سالہ فرزانہ احمد برطانیہ میں ہی پیدا ہوئی ہیں اور ان کی شادی سن انیس سو چھیانوے میں میرپور میں مقیم اپنے خالہ زاد بھائی معروف احمد سے ہوئی تھی۔ معروف کے والد فرزانہ کے والد کے بھائی بھی ہیں۔ برطانوی خاتون کا کہنا ہے کہ ان کی شادی ان کے والدین نے طے کی تھی۔

شادی کے بعد ان کے شوہر اپنی بیوی کے ساتھ رہنے کے لیے برطانیہ چلے گئے جہاں ان کو برطانیہ کی شہریت مل گئی۔

جمعہ کے روز فرزانہ کی بازیابی سے پہلے ان کے بھائی نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو اپنی بہن کی بازیابی کی درخواست دی تھی جس پر مجسٹریٹ نے فوری کارروائی کا حکم دیا تھا۔