منیر بلوچ اغوا، وکلا کا احتجاج

خضدار سے جھالاوان بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما منیر بلوچ کے اغوا کے خلاف بلوچستان بھر میں وکلا نے جمعہ کو عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ خضدار میں شٹرڈاؤن ہڑتال بھی کی گئی اور بلوچ رہنماؤں نے ایک مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مینر ایڈووکیٹ کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، بلوچستان بار ایسوسی ایشن اور بلوچستان بار کونسل کی اپیل پر جمعہ کو کوئٹہ سمیت صوبہ بھر میں وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔

اس سلسلے میں جعہ کو کوئٹہ میں وکلاء کے ایک اجلاس میں منیر میر وانی کے اغوا کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔اجلاس کے بعد سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر امان اللہ کنرانی نے کہا کہ منیر میروانی ایڈووکیٹ کی بازیابی تک وکلا کا احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں حکومت سے کوئی توقع نہیں ہے کہ وہ منیر میروانی ایڈووکیٹ کی بازیابی میں کوئی کردار اداکرسکتی ہے کیونکہ ’یہ حکومت پینسٹھ وزا تک محدود ہے اس حکومت کو بلوچستان کے پینسٹھ لاکھ لوگوں کی جان اور مال کے تحفظ کا کوئی احساس نہیں ہے۔‘

جھالاوان بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری منیر میروانی ایڈوکیٹ کو کل شام اس وقت دوگاڑیوں میں سوار نامعلوم افراد نے اغواء کیا تھا جب وہ اپنے دوست عبدالسلام کے ہمراہ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ سے گزرہے تھے۔ منیر بلوچ بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کونسلر بھی ہیں اور ان کے اغواء کے خلاف جمعہ کو خضدار میں بلوچستان نیشنل پارٹی کی اپیل پر شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی۔

اس موقع پر ایک احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے بی این پی کے ضلعی جنرل سیکرٹری جاوید بلوچ نے الزام لگایا ہے کہ مینر میروانی ایڈووکیٹ کے اغواء میں سرکاری ایجنٹوں کا ہاتھ ہے اور ایسے واقعات کے ذریعے حکومت بلوچوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کررہی ہے

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے تحصیل خضدار کے جنرل سیکرٹری لطیف بلوچ نے انسانی حقوں کے عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں جاری ریاستی ظلم و تشدد کا نوٹس لیں۔

یاد رہے کہ اس سال مارچ میں افتخارالحق ایڈووکیٹ کوئٹہ سے اغواء ہوئے تھے اور بازیابی کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ کوئٹہ سے اسلام آباد منتقل ہوئے ہو گئے ہیں۔ افتخار الحق کی طرح کئی خاندان بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان جیسے واقعات کے باعث اب تک بلوچستان سے دوسرے صوبوں میں منتقل ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں