طالبان کی نہیں پھولوں کی بات کریں

Image caption بچیاں جو پھول بیچتی ہیں اور پڑھتی ہیں

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں ایسے کئی بچے راہ چلتے مل جاتے ہیں جن کا تعلق جنگ زدہ پڑوسی ملک افغانستان سے ہے مگر ان میں پغمان کے تین گل فروش بچوں کی کہانی کچھ الگ ہی ہے۔

پھول بیچنے والے ان بچوں کا تعلق افغانستان کے کابل صوبے سے ہے مگر وہ اپنے حالات کی سنگینی کی وجہ سے اپنے وطن سے دور ہیں۔ ان بچوں میں دس سالہ عقیہ بھی شامل ہیں۔جن کے والد بقول ان کے طالبان کے ساتھ کام کرتے تھے مگر گولی لگنے کی وجہ سے زخمی ہوگئے اور کراچی میں علاج کے دوران فوت ہوگئے۔

عقیلہ اردو اور انگریزی زبانوں میں بھی بات کرسکتی ہیں مگر فارسی ان کی مادری زبان ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہیں یاد نہیں ہے کہ انہوں نے اپنے والد کو دیکھا ہے مگر ان کے متعلق تمام باتیں ان کی امی انہیں سناتی رہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں شہر کی تمام بڑی ہسپتالوں آغا خان اور لیاقت نیشنل سے ان کا علاج کروایا مگر وہ بچ نہ چکے۔

عقیلہ نے بتایا ہے کہ ان کی والدہ کپڑے کی ایک مقامی فیکٹری میں کام کرتی ہیں اور وہ کلفٹن میں ایک بنگلے کے چوکیدار کے کمرے میں رہتی ہیں۔ چوکیدار ان کا عزیز ہے۔ عقیلہ کے بقول رات بھر چوکیدار کمرے سے باہر رہتا ہے جب کہ دن بھر وہ ماں بیٹی اپنے کام کی وجہ سے باہر ہوتی ہیں۔

عقیلہ کے ساتھ ان کی سات سالہ کزن آمنہ اور آٹھ سالہ عبیداللہ بھی ساحل سمندر پر پھول بیچتے کرتے ہیں۔ تینوں بچوں کا تعلق کابل کے قریبی پہاڑی ضلع پغمان سے ہے۔ تینوں کراچی میں کرائے کے الگ الگ مکانوں میں رہتے ہیں مگر ایک ہی سکول میں ساتھ پڑھتے ہیں۔

Image caption ان کے خواب ویسے ہی ہیں جیسے دوسرے بچوں کے ہو سکتے ہیں لیکن ان کا راستہ شاید کچھ مشکل ہے۔

عبید نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے والد افغانستان میں مارے گئے، کیسے اور کب یہ ان کو پتہ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ پھولوں کو سجاکے رکھتی ہیں اور وہ سکول سے واپسی پر پھول لے کر ساحل سمندر پہنچ جاتے ہیں۔ رات گئے ساحل سمندر پر واقع پوش علاقے ڈیفنس ویو میں ایک جگہ پر واقع چار سنیما گھروں کے آخری شوز تک تینوں بچے اپنے پھول مختلف جوڑوں کو پیش کرتے رہتے ہیں۔تاکہ سکول کی فیس جمع کر سکیں۔

عقیلہ نے بتایا ہے کہ ان کے گھریلو اخراجات ان کی والدہ برداشت کرتی ہیں جب کہ وہ پھول فروخت کرکے اپنے سکول کی فیس جمع کرتے ہیں۔ عقیلہ کا خواب ہے کہ وہ ڈاکٹر بنے اور اپنے آبائی علاقے پغمان میں جاکر کلینک کھولے۔

آمنہ اور عبید کا کہنا تھا کہ ہفتہ وار تعطیل کے دنوں میں ان کے سکول کے ساتھی جب ساحل سمندر تفریح کے لیے آتے ہیں تو وہ ان سے چھپ جاتے ہیں۔ عبید کے بقول سکول میں کسی کو علم نہیں کہ وہ پھول بیچتے ہیں۔ عبید نے کہا، ’ایسا نہ ہو کل وہ ہم سے نفرت کریں کہ تم تو شام کو پھول بیچتے ہو‘۔

Image caption عبید کے والد افغانستان میں مارے گئے، کیسے اور کب یہ ان کو پتہ نہیں ہے۔

آمنہ اور عبید نے اپنے والدین کے بارے میں زیادہ بات کرنے سے گریز کیا اور صرف اتنا کہا ہے کہ افغانستان میں جنگ کی وجہ سے ان کے والد نہیں رہے اور وہ اپنی والدہ و دیگر رشتہ داروں کے ساتھ کراچی پہنچے۔ وہ طالبان کے متعلق سوالات پر خاموش ہوجاتے ہیں اور صرف اتنا کہتے ہیں کہ ’انکل ہمیں زیادہ پتہ نہیں ہیں ہم سے طالبان کی نہیں پھولوں کی بات کریں‘۔