مبینہ دہشت گرد کی بریت کا از خود نوٹس

مناواں سے گرفتار ہونے والا ملزم ہجرت اللہ
Image caption مناواں سے گرفتار ہونے والے ملزم ہجرت اللہ کو انسداد دہشت گردی عدالت نے بری کر دیا

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے دہشت گردی کی بڑی کارروائیوں میں ملوث میبنہ شدت پسندوں کی بریت کا ازخود نوٹس لے لیا ہے۔

چیف جسٹس ہائی کورٹ جسٹس خواجہ محمد شریف نے یہ از خود نوٹس اس وقت لیا جب انسداد دہشت گردی کی عدالت کی طرف مناواں پولیس ٹریینگ سینٹر پر حملے کے الزام میں ملوث مبینہ شدت پسند ہجرت اللہ کی بریت کا فیصلہ سامنے آیا ۔

جسٹس خواجہ محمد شریف نے مبینہ شدت پسند کی بریت کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے پنجاب کے سیکریٹری پراسیکیوشن رانا مقبول احمد ، پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید زاہد حسین بخاری اور آئی جی پولیس پنجاب طارق سلیم ڈوگر کو بائیس جون کو طلب کیا ہے ۔

سنیچر کی رات کو لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے جو ازخود نوٹس لیا اس میں مناواں پولیس ٹریینگ سینٹر کے علاوہ میریٹ ہوٹل اسلام آباد اور فوج کے سرجن لیفٹیننٹ جنرل مشتاق احمد بیگ پر ہونے والے خودکش حملوں کا تذکرہ کیا ہے اور اس میں پراسیکیوشن یعنی استغاثہ کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔

واضح رہے کہ ہجرت اللہ کے علاوہ گزشتہ دنوں ایک درجن کے قریب ایسے ملزم انسداد دہشت گردی کی عدالتوں سے بری ہوئے جن کو خودکش حملے اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس خواجہ محمد شریف نے اپنے ازخود نوٹس میں لکھا کہ دہشت گردی کی واقعات میں درجنوں لوگ اپنی جان سے چلے گئے لیکن پراسیکیوشن ملزموں کو سزا دلوانے کے لیے عدالتوں کی مناسب معاونت نہیں کرسکی جبکہ ناقص تفتیش اور ناکافی ثبوتوں کی وجہ سے ملزم بری ہوگئے۔

ہائی کورٹ کے جسٹس خواجہ محمد شریف نے اپنی از خود نوٹس میں یہ بھی لکھا ہے کہ عدلیہ ریاست کا ایک اہم جزو ہے اور اس کی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومتی اداروں کی کارکردگی کو جانچے اور یہ دیکھے کہ کیا یہ ادارے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقہ سے ادا کر رہے ہیں یا نہیں۔

اس سے پہلے سنیچر کی دوپہر کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے گزشتہ سال تیس مارچ کو لاہور کے نواحی علاقے مناواں میں پولیس کے تربیتی مرکز پر حملے میں ملوث ایک ملزم ہجرت اللہ کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا تھا۔

ہجرات اللہ کو حساس اداروں کے اہلکاروں نے پولیس ٹریننگ سینٹر کے قریب کھیتوں سے حراست میں لیا تھا اور اس پر الزام تھا وہ سینٹر پر حملہ کرنے والے شدت پسندوں کا ساتھی ہے اور اس کے پاس سے اسحلہ برآمد ہوا تھا۔

ہجرت اللہ کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ اسی عدالت نے ہجرت اللہ کو گزشتہ سال اسحلہ رکھنے کے جرم میں دس برس قید کی سزا سنائی تھی۔

ماہرین قانون کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت سے کسی ملزم کی بریت کے خلاف صوبے کی اعلیْ عدالت یعنی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔

اسی بارے میں