گیس معاہدہ، ’پاکستان ابھی انتظار کرے‘

رچرڈ ہالبروک
Image caption ’یہ قانون اتنا جامع ہو سکتا ہے کہ اس سے پاکستانی کمپنیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں‘

پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک کا کہنا ہے کہ پاکستان فی الحال ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے میں خود کو پابند کرنے سے گریز کرے کیونکہ ایران پر امریکہ کی طرف سے متوقع پابندیاں پاکستانی کمپنیوں کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔

اتوار کو اسلام آباد میں صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پاکستان کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ انتظار کرے اور دیکھے کہ یہ قانون کیا ہے‘۔

رچرڈ ہالبروک کا کہنا تھا کہ’ بلاشبہ پاکستان کو توانائی بڑے بحران کا سامنا ہے اور ہمیں اس بارے میں پاکستان کے ساتھ ہمدردی ہے۔ تاہم امریکی سینیٹ میں ایک مخصوص منصوبے کے بارے میں مسودۂ قانون پر کام ہو رہا ہے اور وہ قانون اس (ایران پاکستان گیس پائپ لائن) منصوبے کو بھی متاثر کر سکتا ہے‘۔

امریکی ایلچی نے کہا کہ ’ہم پاکستانیوں کو خبردار کرتے ہیں کہ جب تک اس قانون کے بارے میں صورتحال واضح نہیں ہو جاتی وہ اس منصوبے کے ساتھ اپنے آپ کو بڑھ چڑھ کر پابند نہ کریں‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون اتنا جامع ہو سکتا ہے کہ اس سے پاکستانی کمپنیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

اس قانون کی حتمی تفصیلات پر کام کرنے والی امریکی سینیٹ کی کمیٹی کے رکن سینیٹر جوزف لیبرمین نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ انہیں توقع ہے کانگریس جلد ہی اس قانون سازی پر کام مکمل کر لےگی جس کے تحت ایران پر پابندیاں سخت کر دی جائیں گی۔ اس مسودہ قانون میں وہ شق بھی شامل ہے جس کے تحت تہران کو صاف شدہ پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی متاثر ہوگی اور اس کے مالیاتی شعبے پر بھی پابندیاں عائد ہوں گی۔

خیال رہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے کا صاف شدہ پٹرولیم مصنوعات کے ساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔

امریکی ایلچی کا یہ بیان خود ان کے اس بیان کے برعکس ہے جو انہوں نے سنیچر کو پاکستان کے وزیرِ خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دیا تھا۔اس پریس کانفرنس میں رچرڈ ہارلبروک نے کہا تھا کہ امریکہ کو پاکستان ایران گیس پائپ لائن پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

یہ دوسرا موقع ہے کہ کسی اعلٰی امریکی عہدیدار کی جانب سے پاکستان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن کے منصوبے پر دوبارہ غور کرے۔ اس سے قبل رواں برس اپریل میں امریکہ کے نائب وزیرِ خارجہ رابرٹ بلیک نے واشنگٹن میں پاکستان کو اس منصوبے پر دوبارہ غور کرنے کے لیے کہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایرانی منصوبوں میں کسی بڑی سرمایہ کاری کی ایران کے جوہری پروگرام پر اپنی تشویش کی وجہ سے مخالفت کرتا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سات اعشاریہ چھ ارب ڈالر کا گیس پائپ لائن معاہدہ طے پایا ہے جو دسمبر دو ہزار چودہ میں مکمل ہو جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت ایران کے ساؤتھ فارس گیس فیلڈ سے یومیہ پچھہتر کروڑ کیوبک فٹ گیس پاکستان کو فراہم کی جائے گی اور اسے ایک ارب کیوبک فٹ تک بڑھانے کی گنجائش رکھی جائے گی۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو پچیس سال تک گیس فراہم کی جائے گی اور اس عرصے میں مزید پانچ برس کا اضافہ ہو سکے گا۔

اس معاہدے کا مقصد پاکستان کا توانائی کے بحران پر قابو پانا ہے۔ اس منصوبے میں ابتدائی طور پر بھارت بھی شامل تھا مگر مذاکرات میں بظاہرگیس کی قیمت اور ٹرانزٹ فیس پر تنازع کی وجہ سے وہ منصوبے سے علیحدہ ہوگیا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس علیحدگی کی ایک وجہ امریکی دباؤ بھی ہے۔

اسی بارے میں