مناواں حملہ: بریت کے خلاف اپیل کا فیصلہ

فائل فوٹو، ہجرت اللہ
Image caption سنیچر کو ہجرت اللہ کو ناکافی ثبوتوں کی بنا پر بری کر دیا گیا تھا

پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان نے مناواں پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملے میں ملوث مبینہ شدت پسند ہجرت اللہ کی بریت پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اتوار کو رانا ثنا اللہ نے پنجاب اسمبلی کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہجرت اللہ جیسے ’دہشت گرد‘ کی بریت سے انہیں سخت افسوس اور مایوسی ہوئی ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سنیچر کو لاہور کے نواحی علاقے مناواں میں پولیس کی تربیتی مرکز پر حملے کے الزام میں ملوث ہجرت اللہ کو ناکافی ثبوتوں کی بنا پر بری کردیا تھا۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت میینہ شدت کی بریت کے عدالتی فیصلے سے قعطیٰ طور پر متفق نہیں ہے، کیونکہ بقول ان کے ہجرت اللہ شدت پسندوں کے ساتھ افغانستان سے آیا تھا اور اس نے وہاں سے تربیت حاصل کی تھی۔

رانا ثناء اللہ خان نے تبایا کہ حکومت ہجرت اللہ کی بریت کے فیصلے کے خلاف ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے روبرو اپیل دائر کی جائے گی۔

ان کے بقول قانون کے مطابق عدالت کا یہ فرض ہے کہ جیسے ہی کسی مقدمے کا فیصلہ سنایا جائے تو اس فیصلے کی نقل سرکاری وکیل کو فراہم کی جاتی، لیکن ابھی تک انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے ہجرت اللہ کی بریت کا فیصلہ زبانی سنایا ہے اور ابھی تک انہیں عدالتی فیصلے کی نقل نہیں ملی۔

ُادھر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس خواجہ محمد شریف نے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث مبینہ شدت پسندوں کی بریت پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو بائیس جون کو طلب کر لیا ہے۔

اسی بارے میں