کراچی جیل میں موسیقی کلاس بند

پاکستان میں صوبہ سندھ کے وزیر جیل خانہ جات نے کہا ہے کہ وہ شدت پسند مذہبی جماعتوں سے نہیں ڈرتے اور کراچی جیل میں بند کی گئی موسیقی کلاس کو جلد ہی دوبارہ کھول دیا جائیگا تاکہ جس قیدی کو شوق ہو وہ موسیقی کی تربیت حاصل کرسکے۔

صوبائی وزیر حاجی مظفر شجراع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ موسیقی کلاس فی الوقت نہیں مگرجولائی کے بعد ضرور شروع کی جائیگی۔ خیال رہے کہ کراچی سنٹرل جیل میں شروع کی گئی موسیقی کلاس چند ماہ سے بند ہے۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ چند ماہ پہلے بعض شدت پسند مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کی طرف سے ہنگامہ آرائی کے بعد موسیقی کلاس بند کردی گئی تھی۔

جیل حکام کے مطابق قیدیوں کی اس ہنگامہ آرائی میں جیل کے اندر قائم موسیقی کلاس میں رکھے گئے مختلف آلات گٹار، ہارمونیم، کی بورڈ وغیرہ توڑ پھوڑ دئے گئے تھے۔

کراچی جیل کے اہلکار نصرت حسین منگن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ،پاکستان میں انہوں نے پہلی مرتبہ جیل کے اندر موسیقی کلاس شروع کی تھی جو چند ماہ تک بہتر چلی مگربدقسمتی سے ایک ایسا واقعہ ہوا جس میں ان لوگوں (قیدیوں) کا آپس میں جھگڑا ہوگیا جس دوران موسیقی کے آلات بھی ٹوٹ گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ فی الوقت کلاس معطل کردی گئی ہے تاہم جلد ہی دوبارہ شروع کردی جائیگی۔

کراچی جیل کے سربراہ کا کہنا ہے کہ مسئلہ یہ ہے کہ موسیقی کے اب نئے آلات خریدنے ہونگے۔ مگر موسیقی اور فائن آرٹس کے لیے محکمہ جیل خانہ جات کے پاس کوئی سرکاری فنڈز دستیاب نہیں ہیں۔ پہلے بھی مخیر حضرات اور کچھ دوستوں کی مدد سے کلاس کا اجرا ہوا تھا۔

خیال رہے کہ کراچی سنٹرل جیل میں دو ہزار آٹھ کی آخر میں ایک میوزک کلاس شروع کی گئی تھی۔ جہاں ایک میوزک ٹیچر ایرک سرور قیدیوں کو تربیت دیا کرتے تھے۔ جیل حکام نے قیدیوں کی تربیت کے لیے موسیقی کلاس میں چار کی بورڈ، دو کانگو،ایک ہارمونیم، چار گٹار اور طبلے کا ایک سیٹ خریدا تھا۔

پاکستان کی جیلوں کا عام طور ایک بھیانک تصور ہے۔ جہاں دہشتگردی، قتل اور اغوا برائے تاوان کے ملزمان کی اکثریت قید ہے۔ کراچی میں شدت پسند مذہبی جماعتوں کے کارکنان کی ایک بڑی اکثریت بھی قید ہے۔ مجموعی طور پر کراچی سنٹرل جیل میں چار ہزار سے زیادہ قیدی ہیں ان میں سے ایک درجن کے قریب قیدیوں نے موسیقی کی تربیت کے لیے میوزک کلاس میں داخلہ لیا تھا۔

اسی بارے میں