پاکستانی جوہری پروگرام، نئے تنازعے کا خدشہ

Image caption یہ اجلاس اکیس جون سے پچیس جون تک جاری رہے گا

ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکہ اور چین کے مابین اس وقت جوہری ٹیکنالوجی کے معاملات پر تناؤ کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے جب نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں پیر سے شروع ہونے والے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے اجلاس میں چین کی جانب سے پاکستان کو دو بجلی پیدا کرنے والے جوہری ریکٹروں کا معاملہ زیر بحث آئے گا۔

چین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اس کا سویلین نیوکلیئر تعاون بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق اور پرامن مقاصد کا حامل ہے اور یہ کہ پاکستان کو مہیا کیے جانے والے دو جوہری ریکٹر پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ یہ تعاون پرامن مقاصد کے لیے ہے اور جوہری توانائی کے بین الاقومی ادارے آئی اے ای اے کی زیرنگرانی ہو رہا ہے۔

دوسری طرف امریکہ پہلے ہی پاکستان اور چین کے مابین ہونے والی اس مجوزہ ڈیل پر تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔

اس سے پہلے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے چین سے کہا تھا کہ وہ پاکستان کو مزید جوہری ریکٹروں کی مجوزہ فروخت سے متعلق تفصیلات کی وضاحت کرے۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کو جوہری ریکٹروں کی مجوزہ فروخت دونوں ملکوں کے مابین موجود جس تعاون کے دائرے میں نہیں آتی جو چین کے نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شمولیت کے وقت موجود تھا۔

امریکی نقطہِ نظر کے حامی جوہری ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی طرف سے پاکستان کو دو جوہری ریکٹروں کی مجوزہ فروخت نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی ہے۔

بی بی سی کے سفارتی امور کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے کرائسٹ چرچ میں ہونے والے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا اجلاس دیگر ملکوں یہ موقع فراہم کرے گا کہ چین اور پاکستان کے مابین ہونے والی مجوزہ ڈیل کا جائزہ لے سکیں۔

امریکی ادارے کانیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس سے منسلک سینیئر جوہری امور کے ماہر مارک ہِبس کے مطابق حالیہ کچھ ہفتوں کے دوران چین کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ کرائسٹ چرچ اجلاس کے دوران چین مجوزہ ڈیل سے متعلق اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے کسی نوعیت کا کوئی بیان جاری کرے گا۔

مارک ہِبس کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کے دوران پاک چین ڈیل کے کسی بڑے تنازعے کی شکل اختیار کرنے کے امکانات کم ہی ہیں کیونکہ ابھی تک نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے درمیان بھی اس بارے میں اتفاق نہیں ہو پایا کہ اس سلسلے میں کیا کیا جائے۔

تاہم نامہ نگار کے مطابق اس سلسلے میں سفارتی سطح پر پہلے ہی صف بندی ہو رہی ہے کیونکہ بہت سے ملک دو سال پہلے پیدا ہونے والی اس صورتِ حال سے بچنا چاہتے ہیں جب امریکہ نے کئی دیگر جوہری طاقتوں کی حمایت سے نیوکلیئر سپلائرز گروپ سے استثنیٰ کی ایسی شرائط منظور کرائی تھیں جس کے تحت امریکہ کی طرف سے انڈیا کو سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کی فروخت ممکن ہو سکی تھی۔

استثناء کی ان شرائط کی جوہری عدم پھیلاؤ کے کئی علمبرداروں نے شدید مذمت کی تھی کیونکہ نہ تو انڈیا نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی پر دستخط کیے ہیں اور نہ ہی اس نے جوہری اسلحے کی تیاری کو ترک کیا ہے۔

اسی بنیاد پر امریکہ اور اس کے حامیوں پر دوہرے معیارات کو اپنانے کی الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔

ایران کے صدر احمدی نژاد کا دعویٰ ہے کہ ان کے ملک کو جوہری ٹیکنالوجی کے حصول سے روکا جا رہا ہے باوجود اس کے کہ اس کے پاس کسی طرح کے جوہری ہتھیار نہیں ہیں جبکہ امریکہ نے اپنے دوست ملک انڈیا کے ساتھ سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی ڈیل پر دستخط کیے ہیں جس کے پاس پہلے سے ہی جوہری بم ہے۔

Image caption ہند امریکہ ڈیل نے ایک خطرناک مثال قائم ہے جس سے دوہرے معیار کے احساس کو تقویت ملتی ہے:مارک فٹزجیرالڈ

لندن میں قائم انٹرنیشنل انسٹی نیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز کے چیف پرولیفریشن ماہر مارک فٹزجیرالڈ کا کہنا ہے کہ ہند امریکہ ڈیل نے ایک خطرناک مثال قائم ہے جس سے دوہرے معیار کے احساس کو تقویت ملتی ہے۔

امریکی ادارے کانیگی اینڈومنٹ کے مارک ہبس ہند امریکہ جوہری ڈیل کے تو حامی ہیں جس کا، ان کے خیال میں، بہت گہرا سٹریٹجک جواز موجود ہے، لیکن وہ اس بھی اس طریقہِ کار سے متفق نہیں ہے جس سے یہ معاہدہ طے پایا۔ ان کا کہنا ہے کہ بش انتظامیہ نے جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق تحفظات کو بالائے طاق رکھ کر اس معاہدہ پر دستخط کیے حالانکہ اسے انڈیا سے اس سلسلے میں زیادہ سخت شرائط منوانا چاہیے تھی۔

اس پس منظر میں کرائسٹ چرچ میں ہونے والے اجلاس میں انڈیا کو دیئے جانے والے استثنیٰ کا بہت چرچا رہے گا اور اس بارے میں حتمی طور پر اس وقت تک کچھ نہیں کہا جا سکتا جب تک چین اپنا موقف واضح نہیں کرتا۔

Image caption جوہری ماہرین کے مطابق اس سے بڑھ کر تشویش کی بات یہ ہے کہ پاکستان کا جوہری ٹیکنالوجی اور مہارت کے تیسرے ملک کو فروخت کا خوفناک ریکارڈ ہے

مارک ہبس کے مطابق چین کے پاس تین راستے ہیں۔ اول یہ کہ وہ امریکہ کی مثال پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ اپنی ڈیل کے سلسلے میں نیوکلیئر سپلائرز گروپ سے استثنیٰ حاصل کرے۔ چین کے پاس دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ یہ موقف اختیار کرے کہ پاکستان کو دیئے جانے والے دو ریکٹر اسی پرانی ڈیل کا حصہ ہیں جس کے تحت یہ پہلے ہی پاکستان کو دو ریکٹر فراہم کر چکا ہے۔ اس ڈیل پر سن دو ہزار چار سے پہلے ہی عمل درآمد ہو چکا تھا جب چین گروپ میں شامل ہوا تھا۔ تیسرا راستہ یہ ہے کہ وہ این سی جی کا گائیڈلائنز کو نظر انداز کرے اور پاکستان کو دو جوہری ریکٹر فراہم کر دے۔

ماہرین کے مطابق اوباما انتظامیہ چاہتی ہے کہ چین استثنیٰ والا راستہ اختیار کرے۔ لیکن اگر چین یہ راستہ اختیار کرتا ہے تو اس سے این سی جی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور پوری تنظیم کا ڈھانچہ درہم برہم ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق چین کی خواہش ہو گی کہ وہ یہ موقف اختیار کرے کہ دو نئے ریکٹروں کی فروخت پرانے معاہدے میں شامل تھی تو اسے یہ ثابت کرنے میں مشکل پیش آئے گی کیونکہ معاہدے سے متعلق ایسی دستاویزات موجود ہیں جس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ چین کا پاکستان کو مزیر ریکٹر فروخت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے لیے این سی جی کی گائیڈ لائنزکو نظر انداز کرنا بہت مشکل ہو گا کیونکہ وہ سول نیوکلیئر انڈسٹری کے میدان میں ایک بڑا کردار ہے جس کا نہ صرف اپنا بہت بڑا جوہری توانائی کا پروگرام ہے بلکہ وہ بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی کی برآمد کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔

اب یہ اوباما انتظامیہ پر منحصر ہے کہ وہ اس معاملے پر کس طرح آگے بڑھتی ہے۔ مسٹر مارک فٹزجیرالڈ کا کہنا ہے کہ چند روز پہلے تک تو یہی سوچا جا رہا تھا کہ امریکہ اور چین کے مابین اس ڈیل پر عمل درآمد سے متعلق معاہدہ ہو گیا ہے لیکن اب ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ اس سلسلے میں سوال اٹھا رہا ہے۔

کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ این ایس جی کے کئی دیگر ارکان کی طرح امریکہ یہ چاہے گا کہ یہ معاملہ سر نہ اٹھائے لیکن ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ کیپیٹول ہِل یا امریکی کانگریس اور ایوانِ نمائندگان کا اوباما انتظامیہ پر شدید دباؤ ہے کہ وہ پاکستان کو جوہری ریکٹروں کی فروخت کی مخالفت کرے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پاکستان نے بھی انڈیا کی طرف این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے اور اس کے پاس بھی جوہری اسلحے کا تھوڑا بہت ذخیرہ ہے۔تاہم جوہری ماہرین کے مطابق اس سے بڑھ کر تشویش کی بات یہ ہے کہ اس کا جوہری ٹیکنالوجی اور مہارت کے تیسرے ملک کو فروخت کا خوفناک ریکارڈ ہے۔

اس صورتِ حال نے اوباما انتظامیہ کے لیے بہت بڑا مسئلہ کھڑا کر دیا ہے جس کے پورے مشرقِ وسطیٰ پر نتائج مرتب ہوں گے۔ پاک چین ڈیل تو پھر بھی ایک سفارتی معاملہ ہے جو فوری طور پر مسائل پیدا کرنے کے بجائے آہستہ آہستہ پس منظر میں بھی جاسکتا ہے لیکن اس کے نتائج پاک انڈیا تعلقات سے بہت زیادہ دور رس ہو سکتے ہیں۔ امریکہ اور چین کے تعلقات میں موجود تناؤ اس ڈیل سے پیدا ہونے والے نتائج کا پہلا شاخسانہ ہے۔

اسی بارے میں