سپل وے چوڑا کرنے کے لیے بلاسٹنگ

نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی نے عطا آباد میں بنی مصنوعی جھیل کے سپل وے کو چوڑا کرنے اور پانی کی نکاسی میں اضافہ کرنے کے لیے بلاسٹنگ کی ہے۔

ہنزہ نگر انتظامیہ کے مطابق یہ بلاسٹنگ سپل وے کے اطراف میں بڑے پتھروں کو ہٹانے کے لیے کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بڑے پتھر پانی کے اخراج میں اضافے میں رکاوٹ ڈال رہے تھے۔

پتھر ہٹانے کے لیے چھوٹی سی سرجری کرنی ہو گی

مقامی انتظامیہ کے ذرائع نے ہمارے نامہ نگار رضا ہمدانی کو بتایا کہ سپل وے میں بلاسٹنگ کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ جھیل میں پانی کی آمد کی مقدار اخراج سے زیادہ تھی جس کے باعث جھیل کے بالائی علاقے گوجال تحصیل میں دیہاتوں میں پانی کی سطح بلند ہو رہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پچھلے کئی روز سے گرمی کی شدت میں اضافے کے باعث گلیشیئر پگھلنے میں تیزی آئی ہے۔ تاہم دوسری جانب جھیل کے سپل وے سے پانی کے اخراج میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا تھا۔

جھیل میں پانی کی آمد آٹھ ہزار چھ سو چالیس کیوسک ہے جبکہ جھیل سے اخراج کی مقدار آٹھ ہزار دو سو کیوسک ہے۔

اخراج کی یہ مقدار گنش پل پر لگے لیزر سینسر سے لی جاتی ہے۔ گنش پل سے گزرنے والے پانی میں تین سے چار نالوں کا پانی بھی شامل ہوتا ہے۔ تاہم یہ جاننا مشکل ہے کہ جھیل سے کتنی مقدار میں نکاسی ہو رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پچھلے دو روز میں گلمت گاؤں میں مزید چھ گھر اکھاڑنے پڑے کیونکہ پانی کی سطح میں اضافہ ہوا۔

دوسری جانب ششکٹ گاؤں جو پہلے ہی اسّی فیصد زیر آب ہے کو مزید خطرہ لاحق ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلستان مہدی شاہ ایک یا دو روز میں ششکٹ کے رہائشیوں کو محفوظ جگہ منتقل کرنے کے حوالے سے فیصلہ کریں گے۔

ششکٹ میں محصور افراد کو گنش گاؤں کے قریب ڈوم ڈاس کے علاقے میں منتقل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ششکٹ کے رہائشیوں کو انتظامیہ پھسو کے علاقے پر منتقل کرنے کے حوالے سے سوچ رہی تھی لیکن ششکٹ کے لوگوں نے اس منصوبے کو رد کردیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں دریا کے زیریں حصوں میں منتقل کیا جائے۔

اس کے علاوہ کشتی سروس جو جمعرات کے روز بند کردی گئی تھی وہ تاحال بند ہے اور اس سروس کو دوبارہ شرع کرنے کے حوالے سے فیصلہ انتظامیہ ایک دو روز میں لے گی۔

اسی بارے میں