اوکزئی ایجنسی:چار اہلکار ہلاک

فائل فوٹو
Image caption شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں گب شپ ہیلی کاپٹروں کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں گزشتہ چند دنوں سے سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں شدت آئی ہے حکام کے مطابق منگل کو ایک تازہ جھڑپ کے دوران سکیورٹی فورسز کے چار اہلکار اور تینتالیس شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

اورکزئی ایجنسی میں ایک فوجی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کو اپر اورکزئی کے ایک اہم مرکز ڈبوری میں شدت پسندوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں سکیورٹی فورسز کے چار اہلکار ہلاک اور اٹھارہ زخمی ہوگئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ زخمی اہلکاروں کو ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے کوہاٹ منتقل کر دیا گیا ہے۔

اہلکار نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی شروع کی ہے جس میں تینتالیس شدت پسندوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔اہلکار کے مطابق شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں توپخانے کے علاوہ گن شپ ہیلی کاپٹروں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

فوجی اہلکار نے پشاور میں ہمارے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ ڈبور اور آس پاس کے علاقوں میں شدت پسندوں کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا جس میں کئی ٹھکانے مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔

خیال رہے کہ اورکزئی ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے گزشتہ تین چار ماہ سے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف غیر اعلانیہ کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ چند ہفتے قبل فوج نے علاقے میں بڑا آپریشن ختم کر کے تمام اہم اہداف حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اس اعلان کے باوجود علاقے میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے

پیر کو لوئر اورکزئی کے علاقے کاشہ میں بھی سکیورٹی فورسز کے قافلے پر ہونے والے حملے میں تین اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

حکومت نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ لوئر اورکزئی ایجنسی کو مسلح عسکریت پسندوں سے مکمل طورپر صاف کرکے وہاں حکومت کی عمل داری بحال کردی گئی ہے۔ لیکن مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ سکیورٹی فورسز نے صرف سڑکوں کو کلئیر کردیا ہے جب کہ پہاڑی مقامات پر اب بھی شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔

اسی بارے میں