حاکم زرداری کے خلاف مقدمہ بحال

لاہور ہائی کورٹ
Image caption لاہور ہائی کورٹ

لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس اعجاز احمد چودھری کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے کہا ہے کہ عدالت کی طرف سے قومی مفاہمتی آرڈیننس یعنی این آر او کو کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد وہ تمام مقدمات ازخود ہی بحال ہوگئے ہیں جو این آر او کے اجراء کے بعد ختم ہوگئے تھے۔

ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے یہ ریمارکس قومی احتساب بیورو یعنی نیب کی جانب سے دائر کی جانے والی اس درخواست کو نمٹاتے ہوئے دیئے جس میں ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹ بورڈ کے سابق ڈائریکٹر ہاشم بابر ، صدر پاکستان آصف علی زرداری کے والد حاکم علی زرداری اور ان کی والدہ زریں زرداری کی بریت کے خلاف اپیل کو بحال کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے قرار دیا کہ این آر او کو کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد مقدمات کی بحالی کے لیے کسی نئی درخواست کی ضرورت نہیں ہے۔

ہاشم بابر کے خلاف تیرہ برس قبل مارچ انیس سو ستانوے میں ایک ریفرنس دائر کیا گیا تھا جس میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ بر نے ہاشم بابر نے ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹ بورڈ کے سابق ڈائریکٹر کی حیثیت سے اختیارات کا ناجائزہ استعمال کرتے ہوئے حاکم علی زرداری اور ان کی اہلیہ کو پلاٹ الاٹ کرکے فائدہ پہنچایا جو قانون کے تحت قابل دست اندازی جرم ہے۔

ہاشم بابر کے خلاف ریفرنس میں حاکم علی زرداری اور ان کی اہلیہ زریں زرداری شریک ملزمان ہیں۔

ریفرنس کی سماعت کے دوران ہاشم بابر نے دو مرتبہ بریت کے لیے درخواستیں دائر کیں تاہم پہلی مرتبہ احتساب عدالت کے جج رفیق گوریجہ درخواست کو خارج کیا جبکہ دوسری مرتبہ احتساب عدالت کے جج کرامت ساہی نے بریت کی درخواست رد کردیا؛ جس پر ہاشم بابر نے عدالتی احکامات کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور ہائی کورٹ نے احتساب عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیکر احتساب عدالت کو دوبارہ سماعت کرنے کی ہدایت کیا۔

ہاشم بابر نے جب تیسری مرتبہ اس ریفرنس میں اپنی بریت کی درخواست دائر کی تو اس وقت کے احتساب عدالت کے جج چودھری حسن احمد نے ان کی بریت کی درخواست منظور کرتے انہیں ، حاکم علی زرداری اور زریں زرداری کو بری کردیا تھا۔

خیال رہے کہ تین نومبر دو ہزار سات کو قومی مفاہمتی آرڈیننس کے اجراء کے بعد جہاں احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ریفرنس غیر موثر ہوگئے وہاں نیب کی ہائی کورٹ میں دائر کی جانے والی یہ اپیل بھی موثر نہیں رہی تھی۔