ضمنی انتخابات: گنتی کا عمل شروع

Image caption مسلم لیگ کے امیدواروں کی ضمنی انتخابات میں کارکردگی بہتر رہی ہے

جعلی تعلیمی سند کی بنا پر خالی ہونے والی لاہور سے پنجاب اسمبلی کی نشست پی پی ایک سو ساٹھ میں ضمنی انتخابات ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ ان انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ قاف کا کوئی امیدوار میدان میں نہیں ہے۔

مسلم لیگ نون کے رکن پنجاب اسمبلی رانا مشبر اقبال کی جعلی ڈگری کی وجہ سے یہ نشست خالی ہوئی ہے۔ رانا مبشر دو ہزار دو کے چناؤ میں اس حلقہ سے کامیاب ہوئے تھے۔

پنجاب اسمبلی کے حلقہ ایک سو ساٹھ میں مسلم لیگ نواز، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے امیدوار کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ دو ہزار دو کے عام انتخابات میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف ان جماعتوں میں شامل تھیں جنہوں نے انتخابات کا بائیکات کیا تھا۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نواز نے اس حلقہ میں سیف الملوک کھوکھر کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے جو اسی علاقے سے قومی اسمبلی کے رکن افضل کھوکھر کے بھائی ہیں۔

تحریک انصاف کے امیدوار ظہیرعباس کھوکھر ہیں جو دو ہزار دو کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور بعدازاں پیپلز پارٹی پیڑیاٹ میں شامل ہوگئے جو مسلم لیگ قاف میں ضم ہوگئی۔

اسی حلقہ سے تیسرے امیدوار جہانگیر حسین بارا ہیں جن کو جماعت اسلامی نے اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔

لاہور کے ضمنی انتخابات کے بعد چوبیس جولائی کو سرگودھا سے خالی ہونے والی نشست پر ووٹ ڈالے جائیں گے جبکہ جعلی تعلیمی سند کی وجہ سے قومی اسمبلی کے دو حلقوں کے لیے ابھی ضمنی انتخابات کا شیڈول ابھی جاری ہونا ہے۔

یہ دونوں نشستیں بھی مسلم لیگ نون کے ارکان اسمبلی جاوید حسنین اور مدثر قیوم ناہرا کے نااہل ہونے کی وجہ سے خالی ہوئی ہیں۔

خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں ابھی ارکان اسمبلی کی تعلیمی کے اسناد کے حوالے سے درخواستیں زیر سماعت ہیں۔

اسی بارے میں