’منصوبہ بندی کے بارے میں پتہ چل گیا‘

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے داخلہ رحمان ملک نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت کو پتہ چل گیا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کی منصوبہ بندی کب اور کہاں تیار کی گئی تھی۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق رحمان ملک نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ سے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے متعلق وہ تمام شواہد فراہم کرنے کی درخواست کی ہے جو واقعے کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے جمع کی تھیں۔

وزیر داخلہ رحمان ملک نے منگل کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم نے اقوام متحدہ سے وہ شواہد مانگے ہیں جو اس کی تحقیقاتی ٹیم نے اکٹھے کیے اور جن کا اس نے اپنی رپورٹ میں بھی ذکر کیا ہے۔‘

سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق رحمان ملک نے انکشاف کیا کہ حکومت کو پتہ چل گیا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کی منصوبہ بندی کب اور کہاں تیار کی گئی تھی۔

پاکستان کی طرف سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو لکھے گئے حالیہ مراسلے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اس میں یہ درخواست کی گئی ہے کہ واقعے کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی رپورٹ میں جو اہم نکات بیان کیے گیے ہیں ان کے متعلق شواہد فراہم کرے تاکہ مقدمے کا حتمی چالان عدالت میں پیش کیا جاسکے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت بھی واقعے کی تحقیقات کررہی ہے، ابتدائی چالان عدالت میں پیش کردیا گیا ہے اور حتمی چالان بھی جلد ہی جمع کرایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کے قتل میں ملوث تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

وزیر داخلہ نے یہ بات صدر آصف علی زرداری کے اس بیان کے ایک روز بعد کہی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم بینظیر بھٹو کے قتل کا بدلہ نہیں لیں گے۔

اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان خود اس واقعے کی قابل اعتبار فوجداری تحقیقات کرائے اور اس کے بقول یہ کرنا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ پاکستان میں سیاسی قتل کے واقعات میں انصاف نہ ہونے کی روایت کو بدلا جاسکے۔

اسی بارے میں